کے باعث قرآنِ مجید کی یہ آیات نازل ہوئیں :
وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَہٗ وَ لَا تَعْدُ عَیۡنَاکَ عَنْہُمْ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنۡ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۸﴾ وَقُلِ الْحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمْ ۟ فَمَنۡ شَآءَ فَلْیُؤْمِنۡ وَّ مَنۡ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ ۙ (1)
ایک روز حضرتِ ابن اُمّ مکتوم رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے حضور کی خدمت میں حاضری کی اجازت طلب کی، اس وقت آپ کے پاس ایک قریشی سردار بیٹھا ہوا تھا،(2) آپ کو ابن ام مکتوم کی آمد پسندیدہ معلوم نہیں ہوئی، تب اللہ تَعَالٰی نے یہ آیات نازل فرمائیں :
عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی ۙ﴿۱﴾اَنۡ جَآءَہُ الْاَعْمٰی ؕ﴿۲﴾وَ مَا یُدْرِیۡکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰۤی ۙ﴿۳﴾اَوْ َذَّکَّرُ َتَنۡفَعَہُ الذِّکْرٰی ؕ﴿۴﴾اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی ۙ﴿۵﴾فَاَنۡتَ لَہٗ تَصَدّٰی ؕ﴿۶﴾(3)اس نے تیوری چڑھائی اور منہ موڑ لیا جب اس کے پاس نابینا آیا اور کس چیز نے تمہیں یہ معلوم کرایا کہ شاید وہ پاک ہو جاتا یا نصیحت سنتا پس اسے نصیحت فائدہ دیتی جو شخص بے پروائی کرتا ہے تم اسکی خاطر اسے روکتے ہو۔
یہاں نابینا سے مراد حضرتِ ابن اُمّ مکتوم رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور بے پروا شخص سے مراد وہ قریشی سردار ہے جو حضور کی خدمت میں آیا ہوا تھا۔
دنیا کے نامراد بندے کا قیامت میں اعزاز:
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے مروی ہے:قیامت کے دن ایک بندے کو لایا جائے گا، اللہ تَعَالٰی اس سے اس طرح
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں،اسکی رضا چاہتے اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اورپر نہ پڑیں، کیاتم دنیا کی زندگی کا سنگار (زینت) چاہو گے اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا اور فرما دوکہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اورجو چاہے کفر کرے۔ (پ۱۵،الکھف:۲۸،۲۹)…ابن ماجہ،کتاب الزھد،باب مجالسۃ الفقرء،۴/۴۳۵، الحدیث۴۱۲۷والدرالمنثور،۳/۲۷۳
2… سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اس سردار کو دعوتِ اسلام دے رہے تھے۔
3…ترجمۂکنزالایمان:تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا اس پر کہ اس کے پاس وہ نابینا حاضر ہوا اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ ستھرا ہو، یا نصیحت لے تو اسے نصیحت فائدہ دے وہ جو بے پرواہ بنتا ہے، تم اس کے تو پیچھے پڑتے ہو۔ (پ۳۰،عبس:۱۔۶)…ترمذی، کتاب التفسیر ، باب ومن سورۃ عبس، ۵/۲۱۹،الحدیث ۳۳۴۲