حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا قول ہے کہ مالدار بہت دشواری کے ساتھ جنت میں داخل ہوگا۔
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے اہلِ بیت رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ سے مروی ہے:آپ نے فرمایا: جب اللہ تَعَالٰی کسی انسان سے محبت کرتا ہے تو اسے آزمائش میں ڈال دیتا ہے اور جب کسی سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے تو اس کے لئے ذخیرہ کر دیتا ہے۔ پوچھا گیا: حضور ذخیرہ کیسے ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس انسان کے مال اور اولاد میں سے کچھ باقی نہیں رہتا۔(1)
حدیث شریف میں ہے کہ جب تو ’’ فقر‘‘ کواپنی طرف متوجہ پائے تو اسے ’’خوش آمدید‘‘ کہہ اور’’ اے نیکوں کی علامت‘‘ کہہ کر اس کا خیر مقدم کر اور جب تم مال و دولت کو اپنی طرف آتا دیکھو تو کہو، دنیا میں مجھے یہ کسی گناہ کی جلدی سزا مل رہی ہے۔(2)
حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تَعَالٰی سے عرض کیا: الٰہی! مخلوق میں تیرے دوست کونسے ہیں تاکہ میں ان سے محبت کروں ، اللہ تَعَالٰی نے فرمایا: فقیر اور فقر۔
حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا فرمان ہے: میں فقر کو دوست رکھتا ہوں اور مالداری سے نفرت کرتا ہوں اور آپ کو ’’ اے مسکین‘‘ کہہ کر بلایا جانا سب ناموں سے اچھا لگتا ۔
جب عرب کے سرداروں اور مالداروں نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے کہا: آپ اپنی مجلس میں ایک دن ہمارے لئے اور ایک دن ان فقراء کے لئے متعین کیجئے، پس وہ ہمارے دن میں نہ آئیں اور ہم ان کے دن میں نہیں آئیں گے۔ فقراء سے ان کی مراد حضرتِ بلال، حضرتِ سلمان، حضرتِ صہیب، حضرتِ ابوذر، حضرتِ خباب بن الارت، حضرتِ عمار بن یاسر، حضرتِ ابوہریرہ اور اصحابِ صفہ کے فقراء رِضْوَانُاللہ ِعَلَیْہمْ اَجْمَعِیْن تھے۔ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس بات کو مان لیا کیونکہ ان فقراء کے لباس سے ان دولت مندوں کو بدبو آتی تھی،ان فقراء کے لباس اُون کے تھے اور پسینہ آنے کی صورت میں ان کے کپڑوں سے جو بو آتی تھی وہ اَقرع بن حابس التمیمی، عیینہ بن حصن الفزاری، عباس بن مرداس السامی اور دیگر اَغنیائے عرب کو بہت چیں بہ جبیں کردیا کرتی تھی چنانچہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی اس بات پر رضا مندی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال، کتاب الفراسۃ ۶/۴۶، الجزء الحادی عشر، الحدیث۳۰۷۹۰ (راوی ابوعقبہ خولانی)
2…فردوس الاخبار،۳/۱۷۵،الحدیث۴۴۶۹وحلیۃ الاولیاء، ابراہیم بن عبداللہ ، ۶/۳۴۲،الحدیث۸۸۴۵