نے دیکھا ایک شخص مچھلیوں کا شکار کررہا ہے، اس نے اللہ تَعَالٰی کا نام لے کر دریا میں جال ڈالا مگر کوئی مچھلی نہ پھنسی۔ پھر انہی نبی کا گزر ایک دوسرے شخص کے پاس سے ہوا جو مچھلیوں کا شکار کررہا تھا، اس نے شیطان کا نام لے کر اپنا جال پھینکا، جب جال کھینچا تو وہ مچھلیوں سے بھرا نکلا۔اللہ کے نبی نے بارگاہ رب العزت میں عرض کی: اے عالم الغیب!اس میں کیا راز ہے؟ اللہ تَعَالٰی نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میرے نبی کو اُن دو شخصوں کا مقامِ آخرت دکھلاؤ، جب انہوں نے پہلے شخص کا اللہ تَعَالٰی کے حضور عزت و وقار اور دوسرے شخص کی بے حرمتی دیکھی تو بے ساختہ کہہ اٹھے: الٰہَ الْعَالَمِیْن! میں تیری تقسیم پر راضی ہوں۔
فرمانِ نبوی ہے: میں نے جنت کو دیکھا اس میں اکثر فقراء تھے، میں نے جہنم کو دیکھا اس میں اکثر مالدار اور عورتیں تھیں ۔ (1)
ایک روایت میں ہے کہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے دریافت کیا: مالدار کہاں ہیں ؟ تو مجھے بتلایا گیا انہیں مالداری نے گرفتار کررکھا ہے۔(2)
ایک دوسری حدیث میں ہے: میں نے جہنم میں اکثر عورتوں کو دیکھ کر کہا: ایسا کیوں ہے؟ تو مجھے بتلایا گیا یہ ان کی سونے اور خوشبوؤں سے محبت کی وجہ سے ہے۔(3)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ’’ فقر‘‘ دنیا میں مومن کے لئے تحفہ ہے۔(4)
ایک روایت میں ہے: انبیاءے کرام میں سب سے آخر حضرتِ سلیمان عَلَیْہِ السَّلَامجنت میں داخل ہوں گے کیونکہ وہ دنیاوی دولت اور اس کی شاہی رکھتے تھے اور صحابہ میں حضرتِ عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ عَنْہ اپنے تمول کی وجہ سے سب سے آخر میں جنت میں جائیں گے۔ (5)دوسری حدیث میں ہے کہ میں نے انہیں (حضرتِ عبدالرحمن بن عوف کو) گھٹنوں کے بل جنت میں داخل ہوتے دیکھا۔(6)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسند احمد، مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص ، ۲/۵۸۲، الحدیث ۶۶۲۲
2…قوت القلوب ، ۱/۴۰۴
3…قوت القلوب ، ۲/۴۱۶ وکشف الخفاء ،۱/۳۵۵، الحدیث۱۲۸۶
4…فردوس الاخبار، ۱/۳۰۵، الحدیث ۲۲۱۹
5…المعجم الاوسط ، ۳/۱۳۹، الحدیث ۴۱۱۲ ماخوذاً لیس ذکر عبد الرحمن بن عوف
6…المعجم الکبیر، ۱/۱۲۹، الحدیث ۲۶۴