سورہا تھا اور اس کی داڑھی اور تمام چہرہ غبار آلود ہو رہا تھا۔ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: اے رب تعالیٰ! تیرا یہ بندہ دنیا میں برباد ہو گیا۔ اللہ تَعَالٰی نے موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی کی اور فرمایا:تمہیں پتہ نہیں ! جب میں کسی بندے پر اپنے کرم کے دروازے مکمل طور پر کھول دیتا ہوں ، اس سے دنیا کی الفت ختم کردیتا ہوں ۔
حضرتِ ابو رافع رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ایک مہمان آیا مگر آپ کے پاس اس کی میزبانی کے لئے کچھ نہ تھا، حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِوَ سَلَّم نے مجھے خیبر کے ایک یہودی کے پاس بھیجا اور فرمایا: اسے کہو کہ رجب المرجب کے چاند تک ہمیں قرض یا ادھار میں آٹا دے دے۔ میں اس یہودی کے پاس گیا تو اس نے کہا: کوئی چیز گروی رکھو تب آٹا ملے گا۔ میں نے آپ کو خبر دی تو آپ نے ارشاد فرمایا: بخدا ! میں زمین و آسمان کا امین ہوں ، اگر وہ قرض یا ادھار میں آٹا دے دیتا تو میں ضرور واپس کرتا، لو میری یہ زرہ لے جاؤ اور اس کے پاس گروی رکھ دو۔ جب میں زرہ لے کر نکلا تو آپ کی تسلی کے لئے یہ آیت نازل ہوئی:
لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ (1)
اور اے سننے والے اسکی طرف اپنی آنکھیں نہ لگا جو ہم نے کافروں کے جوڑوں (زن و شوہر) کو برتنے کیلئے دی ہے جیتی دنیا کی تازگی۔
فرمانِ نبوی ہے کہ فقر مومن کے لئے گھوڑے کے منہ پر حسین بالوں سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔ (2)
فرمانِ نبوی ہے کہ جس کا جسم تندرست، دل مطمئن ہے اور اس کے پاس ایک دن کی غذا موجود ہے تو گویا اسے (کائنات کی) ساری دولت مل گئی ہے۔(3)
حضرتِ کعب الاحبار رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا: جب تو فقر کو آتا دیکھے تو کہنا خوش آمدید! اے نیکوں کے لباس!
دین دار شکار نہ کر سکا اور دنیا دار کو خوب شکار ہوا:
حضرتِ عطاء خراسانی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے منقول ہے: اللہ تَعَالٰی کے ایک نبی کا ساحلِ دریا سے گزر ہوا، وہاں انہوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: اپنی آنکھ اٹھا کر اس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے کچھ جوڑوں کو برتنے کو دی ۔(پ۱۴،الحجر:۸۸)… مسند البزار، مسند ابی رافع مولی۔۔۔الخ،۹/۳۱۵،الحدیث ۳۸۶۳
2…المعجم الکبیر، ۷/۲۹۵، الحدیث ۷۱۸۱
3…ترمذی ، کتاب الزھد، باب ۳۴، ۴/۱۵۵، الحدیث ۲۳۵۳