Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
239 - 676
باب34
فُقَراء کی فضیلت
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان ہے کہ اس اُمت کے سب سے بہترین لوگ فقراء ہیں اور سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے کمزور لوگ ہیں ۔ (1)
	فرمانِ نبوی ہے: میری دو باتیں ہیں ، جو انہیں پسند کرتا ہے وہ مجھے پسند کرتا ہے جو انہیں بُرا سمجھتا ہے وہ مجھے برا سمجھتا ہے؛ فقراور جہاد۔(2)
یہ دنیا اُس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہ ہو:
	مروی ہے کہ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اللہ تَعَالٰی آپ کو سلام فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو میں پہاڑ سونے کا بنا دوں ! جو آپ کے ساتھ ساتھ رہے۔ حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد فرمایا کہ جبریل! یہ دنیا تو اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہ ہو، یہ اس کی دولت ہے جس کے پاس کوئی دولت نہ ہو اور اسے وہی جمع کرتا ہے جو بے وقوف ہو۔ جبریل بولے: اے اللہ کے نبی! اللہ تَعَالٰی آپ کو اسی حق و صداقت پر قائم رکھے۔
	مروی ہے کہ حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام اثنائے سفر میں ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو کمبل لپیٹے سورہاتھا، آپ نے اسے جگا کر فرمایا: اے سونے والے اٹھ! اور اللہ کو یاد کر! اس شخص نے کہا: تم مجھ سے اور کیا چاہتے ہو کہ میں نے دنیا کو دنیا داروں کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: تو پھر اے میرے دوست! سوجا۔
اللہ اپنے محبوب بندے کے دل سے دنیا کی محبت نکال دیتا ہے:
	حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ایک ایسے شخص کے قریب سے گزرے جو اینٹ کا تکیہ بنائے، کمبل میں لپٹا ہوا زمین پر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فردوس الاخبار،۲/۱۸۳،الحدیث ۲۹۲۱
2…طبقات الشافیۃ الکبری للسبکی،۶/۳۶۶ و بریقۃ محمودیۃ فی شرح طریقۃ محمدیۃ ،۳/۳۹