Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
238 - 676
 رہا تھا، جس پر آبِ زَر سے کچھ لکھا ہوا تھا، خلیفہ نے جب مجھے دیکھا تو مسکرا دیا۔ میں نے کہا: امیر المومنین کوئی خاص بات ہے؟ کہا: میں نے بنو اُمیہ کے خزانے میں یہ دو شعر پائے جو مجھے بہت اچھے لگے ہیں اور میں نے ان میں ایک اور شعر کا اضافہ کردیا ہے:   ؎
اذا سد باب عنک من دون حاجۃ		فدعہ لاخری ینفتح لک بابہا
فان قراب البطن یکفیک ملؤہ		ویکفیک سوات الامور اجتنابہا
ولا تک مبذا لا لعرضک واجـتـنب		رکوب المعاصی یجتنبک عقابہا
{1}…جب تیری حاجت روائی کا دروازہ تجھ پر بند ہو جائے تو رُک جا، کوئی اور تیری حاجت روائی کردے گا۔
{2}…پیٹ کا بندہ ہونا اس کے بھرنے کے لئے کافی ہے اور کام کی برائیوں سے بچنے کے لئے ان سے اجتناب ضروری ہے۔
{3}…اوراپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے رکیک حرکتیں مت کر اور ارتکابِ معاصی سے پرہیز کر جس کی وجہ سے تو سزا سے محفوظ ہوجائیگا۔
علم انسان کو حرص اور گدایا نہ ابرام سے محفوظ رکھتا ہے:
	حضرت عبد اللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے حضرتِ کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے پوچھا کہ علماء کے علم حاصل کرلینے کے بعد کونسی چیز ان کے دلوں سے علم نکال لیتی ہے؟ حضرتِ کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے کہا: لالچ، حرص اور لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانا۔ کسی شخص نے حضرتِ فضیل رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے اس قول کی تشریح چاہی تو انہوں نے جواب دیا کہ انسان لالچ میں جب کسی چیز کو اپنا مطلوب و مقصود بنا لیتا ہے تو اس کا دین رخصت ہو جاتا ہے۔ حرص یہ ہے کہ انسان کبھی اس چیز کی اور کبھی اس چیز کی طلب میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ سب کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے اور کبھی اس مقصد کے حصول کے لئے تیرا سابقہ مختلف لوگوں سے پڑے گا، جب وہ تیری ضرورتیں پوری کریں گے تو تیری ناک میں نکیل ڈال کر جہاں چاہیں گے لے جائیں گے، وہ تجھ سے اپنی عزت چاہیں گے اور تو رُسوا ہوجائے گا اور اسی محبت ِ دنیا کے باعث جب بھی تو ان کے سامنے سے گزرے گا تو انہیں سلام کرے گا اور جب وہ بیمار ہوں گے، تو عیادت کو جائیگا اور یہ تیرے تمام افعال خدا کی رضا کے لئے نہیں ہوں گے۔ تیرے لئے بہت اچھا ہوتا اگر تو ان لوگوں کا محتاج نہ ہوتا۔