فہل لک غایۃ ان صرت یوما الیہا قلت حسبی قد رضیت
{1}…میں دیکھ رہا ہوں کہ تیرا تمول تیرے حرص کو بڑھا رہا ہے گویا کہ تونہیں مرے گا۔
{2}…کبھی تو اپنی حرص سے رک کر یہ بھی کہے گا کہ بس مجھے یہ کافی ہے اور میں اس قدر پر راضی ہوں ۔
ایک حریص کو سبق:
حضرتِ شعبی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے چنڈول (چڑیا) کو شکار کیا، چڑیا نے کہا: تم میرا کیا کرو گے؟ اس آدمی نے کہا: ذبح کر کے کھاؤنگا، چڑیا نے کہا: بخدا! میرے کھانے سے تمہارا پیٹ نہیں بھرے گا، میں تمہیں تین ایسی باتیں بتاؤں گی، جو میرے کھانے سے کہیں بہتر ہیں ، ایک تو میں تم کو اس قید کی حالت میں ہی بتاؤں ، دوسری درخت پر بیٹھ کر اور تیسری پہاڑ پر بیٹھ کر بتاؤں گی۔
آدمی نے کہا: چلو ٹھیک ہے پہلی بات بتاؤ! چڑیا نے کہا: یاد رکھو گزری بات پر افسوس نہ کرنا، آدمی نے اسے چھوڑ دیا، جب وہ درخت پر جاکر بیٹھ گئی تو آدمی نے کہا: دوسری بات بتاؤ! چڑیا نے کہا: ناممکن بات کو ممکن نہ سمجھنا۔ پھر وہ اڑ کر پہاڑ پر جابیٹھی اور کہنے لگی: اے بد نصیب! اگر تو مجھے ذبح کردیتا تو میرے پوٹے سے بیس مثقال کے دو موتی نکلتے، یہ سن کر وہ شخص افسوس سے اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے کہنے لگا کہ اب تیسری بات بتادے! چڑیا بولی: تم نے تو پہلی دو کو بھلا دیا ہے، اب تیسری بات کس لئے پوچھتے ہو؟ میں نے تم سے کہا تھا کہ گزشتہ بات پر افسوس نہ کرنا اور ناممکن چیز کو ممکن نہ سمجھنا، میں تو اپنے گوشت، خون اور پروں سمیت بھی بیس مثقال کی نہیں ہوں چہ جائیکہ میرے پوٹے میں بیس بیس مثقال کے دو موتی ہوں ، یہ کہا اور وہ اڑگئی۔
یہ انسان کے انتہائی حریص ہونے کی مثال ہے کیونکہ وہ بھی لالچ میں ناممکن کو ممکن سمجھتے ہوئے راہِ حق سے بھٹک جاتا ہے۔
حضرت ابن سماک رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے: امیدیں تیرے دل کا جال اور پیروں کی بیڑیاں ہیں ، دل سے امیدیں نکال دے، تیرے پاؤں بیڑیوں سے آزاد ہوجائینگے۔
حرص کی مذمت:
حضرت ابو محمد الیزیدی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ میں خلیفہ ہارون الرشید کے ہاں آیا تو وہ ایک ایسے کاغذکو پڑھ