{2}…تو اس کی عزت مَیلی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا چہرہ کبھی پرانا ہوتا ہے۔
{3}…جو شخص قناعت اختیار کرلیتا ہے اسے کبھی کسی چیز کی پرواہ نہیں ہوئی اور اس پر کبھی دکھ کا سایہ نہیں پڑتا۔
ایک اور شاعر کہتا ہے: ؎
حتی متی انا فی حل و ترحال وطول سعی وادبار واقبال
ونازح الدار لا انفک مغتربا عن الاحبۃ لایدرون ماحالی
بمشرق الارض طورا ثم مغربھا لایخطر الموت من حرصی علی بالی
ولو قنعت اتانی الرزق فی دعۃ ان القنوع الغنی لاکثرۃ المال
{1}…کب تک میں اس طرح سفر کرتا رہوں گا اور زبردست جدوجہد اور یہ آمد و رفت جاری رکھوں گا۔
{2}…میں گھر سے دور ہمیشہ دوستوں سے پوشیدہ رہتا ہوں ، انہیں میرے حالات کا علم نہیں ہوتا۔
{3}…میں کبھی مشرق میں ہوتا ہوں اور کبھی مغرب میں ، حرص کا غلبہ یوں ہے کہ میرے دل میں کبھی موت کا خیال ہی نہیں آتا۔
{4}…اگر میں قناعت کرتا تو خوشحالی کی زندگی بسر کرتا کیونکہ حقیقی تونگری قناعت میں ہے کثرتِ مال و دولت تونگری نہیں ہے۔
حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا ارشاد:
حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا ارشاد ہے کہ کیا میں تمہیں نہ بتلاؤں کہ میں اللہ تَعَالٰی کے مال سے کیا کچھ لینا حلال سمجھتا ہوں ؟ سنو! سردی اور گرمی کے لئے دوچادریں اور اس کے علاوہ مجھے حج، عمرہ اور غذا کے لئے قریش کے معمولی جوان کی شکم سیری کے بقدر غذا کی فراہمی۔ لوگو! میں مسلمانوں سے اعلیٰ اور ارفع نہیں ہوں ، بخدا میں نہیں جانتا کہ اتنا لینا بھی جائز ہے یا نہیں ؟ گویا آپ اتنی سی مقدار میں بھی شک فرما رہے تھے کہ کہیں یہ قناعت کے دائرہ سے خارج تو نہیں ہے؟
ایک بدوی نے اپنے بھائی کو حرص سے روکتے ہوئے کہا: تم دنیا کے طالب ہو اور اس چیز کے مطلوب ہوجو کبھی ٹل نہیں سکتی، تم ایسی چیز کو تلاش کررہے ہو جو پہلے ہی تمہاری ہوچکی ہے، گویا کہ غائب چیز تمہارے سامنے اور حاضر چیز تم سے منتقل ہونے والی ہے، شاید تم نے کسی حریص کو محروم اور کسی تارکِ دنیا کو رزق پاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، اسی موضوع پر کسی شاعر نے کہا ہے: ؎
اراک یزید ک الاثراء حرصا علی الدنیا کانک لا تموت