Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
234 - 676
سوال نہ کرو۔ راوی کہتا ہے کہ ہم میں سے کچھ ایسے بھی تھے جن کا اگر تازیانہ گر جاتا تو وہ کسی سے اٹھا کردینے کا سوال نہ کرتے۔(1)
	حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا فرمان ہے، طمع کا ترک، فقر اور لوگوں سے ناامیدی غنٰی ہے، جو لوگوں کے مال و دولت سے ناامید رہتا ہے وہ سب سے بے پروا ہو جاتا ہے۔
	کسی دانا سے مالداری کے معنی پوچھے گئے تو اس نے جواب دیا کہ مختصر امیدیں اور معمولی گزر ان پر راضی ہونے کا نام غناء ہے، اسی لئے کہا گیا ہے:   ؎
العیش       ساعات        تمر		و    خطوب     ایام       تکر
اقنع      بعیشک      ترضہ		واترک ھواک تعیش حر
فلرب        حتف         ساقہ			ذھب    و   یاقوت    و    در
{1}…عیش کی صرف چند گھڑیاں ہیں اور کار ہائے نمایاں انجام دینے کیلئے وقت کم ہے۔
{2}…تو قناعت کر اس عیش پر جو تجھ کو حاصل ہے اور خواہشاتِ نفسانی کو چھوڑ کر آزاد ہوجااور عیش کی زندگی بسر کر۔
{3}…بہت سے وہ لوگ جن کو موت آئی وہ سوناچاندی اور لعل و جواہر چھوڑ کر مر گئے۔
	حضرتِ محمد بن واسع رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ خشک روٹی پانی میں بھگو کر کھاتے اور کہتے: جو اس پر قناعت کرلے وہ کسی کا محتاج نہیں ہوگا۔
بہترین دولت:
	حضرتِ سفیان رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ تمہارے لئے بہترین دولت وہ ہے جو تمہارے قبضہ میں نہیں ہے اور قبضہ میں آئی ہوئی دولت میں وہ بہترین دولت ہے جو تمہارے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔
 	حضرتِ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے: ہر دن ایک فرشتہ پکار کر کہتا ہے کہ اے انسان! گمراہ کرنے والے بہت سے مال سے وہ معمولی مال بہتر ہے جو تجھے زندہ رہنے میں مدد دے۔
	حضرتِ سمیط بن عجلان رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا فرمان ہے کہ اے انسان تیرا بالشت بھر پیٹ تجھے جہنم میں نہ لے جائے۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الزکاۃ، باب کراھۃ المسألۃ للناس، ص ۵۱۹، الحدیث ۱۰۸۔ (۱۰۴۳)