باب33
فضیلتِ قناعت
فقیر کے لئے ضروری ہے کہ وہ قانع ہو، مخلوقات سے امیدیں وابستہ نہ کرے، ان کے اموال پر نگاہ نہ رکھے اور نہ ہی مال و دولت کے حصول میں حریص ہو، یہ اس وقت ممکن ہے جب انسان بقدر ضرورت اپنے کھانے پینے پہننے اور رہائش کی چیزوں پر مطمئن ہو جائے اور ہر معمولی چیز پر اکتفا کرے اور اپنی امیدیں ایک دن یا ایک ماہ سے زیادہ طویل نہ کرے، کیونکہ کثرت کی طلب اور طول اَمل سے قناعت کا مفہوم ختم ہوجاتا ہے اور انسان حرص اور لالچ میں مبتلا ہو جاتا ہے ، پھر یہی طمع اور لالچ اسے بداخلاقی اور برائیوں پر آمادہ کرتے ہیں جن سے انسان کی اچھی عادات تباہ ہو جاتی ہیں اور حرص و طمع اس کی فطرتِ ثانیہ بن جاتے ہیں ۔
انسان کے پیٹ کو قبر کی مٹی ہی بھرتی ہے:
فرمانِ نبوی ہے: اگر انسان کو سونے کی دو وادیاں بھی مل جائیں تو وہ تیسری کی تمنا کرے گا، انسان کے پیٹ کو قبر کی مٹی ہی پر کرتی ہے اور اللہ تَعَالٰی توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول فرمالیتا ہے۔(1)
حضرتِ ابو واقد اللیثی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ جب حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر وحی نازل ہوتی تو ہم بغرضِ تعلیم حاضر ہوتے، ایک مرتبہ ہم حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا؛ اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے:ہم نے مال و دولت نماز و زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے دیا ہے، اگر انسان کو سونے کی ایک وادی مل جائے تو وہ دوسری کی تمنا کرے گا اگر دوسری مل جائے تو تیسری کی آرزو کرے گا، انسان کے پیٹ کو قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور اللہ تَعَالٰی ہر توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔(2)
حضرتِ ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: سورۂ براء ت جیسی ایک اور سورت بھی نازل ہوئی تھی جو بعد میں اُٹھالی گئی، اس میں تھا کہ اللہ تَعَالٰی اس دین کی ایسی قوموں سے امداد کر وائے گا جن کے لئے بھلائی میں کوئی حصہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال، ۴/۲۲۹، الحدیث ۶۴۳۸
2…شعب الایمان، الحادی والسبعون۔۔۔الخ، باب فی الزھد۔۔۔الخ، ۷/۲۷۱، الحدیث ۱۰۲۷۷