Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
230 - 676
	حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: میں تمہیں اللہ تَعَالٰی سے ڈرنے اور دنیا کوچھوڑنے کی وصیت کرتا ہوں، دنیا تمہیں چھوڑنے والی ہے مگر تم اس سے چمٹے ہوئے ہو، وہ تمہارے اجسام بوسیدہ کرتی جارہی ہے اور تم اسے نیا کرنے کی فکر میں ہو، تمہاری مثال ایک مسافر کی ہے، دنیا میں تم سفر آخرت کے لیے زاد راہ تیار کرنے آئے ہو جس طرح مسافر کو سفر کے درمیان آرام نہیں ہوتا اور وہ شب و روز طے منازل کے لئے قدم مارتا چلا جاتا ہے، اسی طرح دنیا میں قرار نہیں لینا چاہئے اور شب و روز اَعمالِ صالحہ کے قدموں سے سفرِ آخرت طے کرنا چاہئے۔
	بہت سے انسان ایسے ہیں جن کی اَجل قریب آگئی اور کچھ ایسے ہیں جنکی زندگیوں میں سے ابھی ایک ہی دن باقی ہے،اسے تلاش کرنے والا اس کی تمنا میں اسے چھوڑ جاتا ہے لہٰذا اس کے دکھ تکلیف پرواویلا مت کرو کیونکہ یہ سب چیزیں عنقریب ختم ہونیوالی ہیں ، اس کے مال و دولت پر خوشی نہ مناؤ کیونکہ یہ عنقریب زائل ہو جائیگی، طالب دنیا پر حیرانگی ہے وہ دنیا کوتلاش کررہا ہے اور موت اس کی تلاش میں ہے، وہ موت سے غافل ہے مگر موت اس سے غافل نہیں ہے۔
ارباب طریقت کا دنیا کے حصول میں طریق کار:
	حضرتِ محمد بن الحسین رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ جب اہلِ علم و فضل، صاحبِ ادب و معرفت لوگوں کو معلوم ہوا کہ اللہ تَعَالٰی نے دنیا کی مذمت کی ہے، وہ اس کے حضور میں انتہائی ذلیل چیز ہے اور وہ اسے اپنے دوستوں کے لئے پسند نہیں کرتا اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس سے کنارہ کشی پسند فرمائی ہے اور صحابہ کرام رَضِیَ اللہ عَنْہمکو اس کے فریب سے بچنے کی تاکید کی تو اہلِ علم حضرات نے اس سے درمیانی حصہ لیا، باقی کو اللہ کی راہ میں بانٹ دیا، وہ قوت لایموت (1) پر راضی ہوگئے اور باقی کو چھوڑ دیا، انہوں نے معمولی کپڑوں سے تن ڈھانپا، معمولی غذا سے بھوک مٹائی اور دنیا کو فانی اور آخرت کو باقی سمجھتے ہوئے وہ دنیا سے ایک سوار کا زادِ راہ لے کر چلے، انہوں نے دنیا کو ویران اور آخرت کو آباد کرلیا اور وہ سراپا آخرت کی طرف متوجہ ہوگئے جس کے متعلق انہیں یقین تھا کہ وہ عنقریب اسے پالیں گے اور وہ دلی طور پر آخرت کی طرف کوچ کرگئے جس کے متعلق انہیں کامل یقین تھا کہ وہ عنقریب اپنے جسموں سمیت ادھر ہی جائیں گے جہاں وہ طویل نعمتیں حاصل کریں گے اور مصائب سے انہیں کوئی واسطہ نہیں ہوگا اور سب کچھ اللہ کی توفیق سے ہوگا جس کی پسند انہوں نے اپنی پسند اور جس کی ناپسندیدگی کو انہوں نے ناپسند سمجھ لیا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اس قدر خوراک جس سے زندگی قائم رہے۔(اردو لغت،۱۴/۳۵۹)