ربِّ ذوالجلال ہمیں اور آپ کو اپنے احکامات پر عمل پیرا ہونے اور اپنے دوستوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے تاکہ ہم اس کی رحمت کے طفیل خلد بریں کو حاصل کرلیں ، بلاشبہ وہ حمید و مجید ہے۔
بعض داناؤں کا قول ہے کہ دن تیر اور لوگ نشانے ہیں ۔ زمانہ ہر دن ایک تِیر پھینکتا ہے اور تجھے دن رات کی گردش کے فریب میں مبتلا کردیتا ہے یہاں تک کہ تیرے تمام اجزاء بوسیدہ ہوجاتے ہیں ، مرورِ ایام میں تیری بقا اور سلامتی ناممکن ہے، اگر تجھے اپنے اوپر گزرے حوادثاتِ زمانہ کی خبر لگ جائے جنہوں نے تیرے وجود کو نقصان میں ڈالا ہے تو تجھے ہر آنے والا دن خوفزدہ کردے اور ایک ایک لمحہ تجھ پر بھاری ہو جائے لیکن اللہ تَعَالٰی کی تدبیر ہر تدبیر سے بالا ہے، اس نے انسانوں کو دنیاوی لذتوں کی مٹھاس میں ڈال دیا ہے حالانکہ یہ دنیا حنظل(تُمّہ) سے بھی زیادہ تلخ بنائی گئی ہے۔ ہر مداح اس کی ظاہری شان و شوکت کی وجہ سے اس کے عیوب سمجھنے میں ناکام رہا ہے اور ہر واعظ اس کے عجائبات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے، اے اللہ! ہمیں نیکی کی ہدایت دے۔ آمین!
کسی دانا سے دنیا اور بقا کے متعلق پوچھا گیا؛ اس نے کہا:اس کا وقفہ چشم زدن جتنا ہے کیونکہ جو وقت گزر گیا ہے وہ واپس نہیں آئے گا اور مستقبل کاتجھے علم ہی نہیں ہے، ہر دن گزشتہ رات کی خبر سناتا ہے اور لمحات کے گزرنے کی داستان بیان کرتا ہے، حوادثاتِ زمانہ انسان کو متواتر تغیر اور نقصان سے ہمکنار کرتے رہتے ہیں ، زمانہ جماعتوں کو منتشر اور پراگندہ کردیتا ہے اور دولت کو منتقل کرتا رہتا ہے، امیدیں طویل اور زندگی تھوڑی ہے اور اللہ ہی کی طرف ہر کام کو رجوع ہونا ہے۔
حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا خطبہ:
حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے خطبہ میں فرمایا: اے لوگو! تم ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہو، اگر تم اس کی تصدیق کرتے ہو تو تم بے وقوف ہو کیونکہ تمہارے اعمال ویسے نہیں ہیں اور اگر تم اسے جھٹلاتے ہو تو ہلاکت میں پڑ گئے ہو،تمہیں اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا ہے بلکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ہے، اے بندگانِ خدا! تم ایسے گھر میں رہتے ہوجس کا کھانا گلے میں پھندا ہے اور جس کا پینا اُچّھو لگنا ہے، اگر تم ایک نعمت کے حصول میں خوش ہوتے ہو تو دوسری نعمت کی جدائی تمہیں مغموم کردیتی ہے، اس گھر کو پہچانو جس کی طرف تم کو لوٹنا ہے اور جس میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے، پھر آپ روتے ہوئے منبر سے اتر آئے۔