لوگو! اگر چاہو تو عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کے نقشِ قدم پر چلو جو فرمایا کرتے تھے کہ بھوک میری کھال، خوف میری عادت، صوف میرا لباس، سرما میں سورج کی کرنیں میری آگ، چاند میرا چراغ، دو پاؤں میری سواری اور زمین کی سبزیاں میری غذا ہیں ، نہ صبح میرے پاس کچھ ہوتا ہے اور نہ شام کو کچھ ہوتا ہے مگر دنیا میں مجھ سے بڑھ کر کوئی غنی نہیں ہے۔(1)
حضرتِ وہب بن منبہ رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ موسیٰ اور ہارون عَلَیْہِمَا السَّلَام کو فرعون کی طرف بھیجا تو فرمایا: اس کی دنیاوی شان و شوکت سے خوف زدہ نہ ہونا وہ میری اجازت کے بغیر نہ بول سکتا ہے، نہ سانس لے سکتا ہے اور نہ ہی پلک جھپک سکتا ہے کیونکہ اس کی پیشانی میرے ہاتھ میں ہے اور دنیا سے اس کی نفع اندوزی تم کوتعجب میں نہ ڈالے، یہ چیز دنیا کی رونق ہے اور بے وقوفوں کی زینت، اگر میں چاہوں تو تمہیں ایسی جاہ وحشمت اور دنیاوی قدر و منزلت دے کر بھیجوں کہ فرعون دیکھتے ہی اپنے عجز کا اقرار کرلے لیکن میں نے تم سے دنیا کو پوشیدہ کرلیا ہے اور تمہاری توجہ اس سے ہٹادی ہے کیونکہ میں اپنے دوستوں کو دنیاوی نعمتوں سے دور کردیتا ہوں جیسے مہربان گڈر یا اپنی بکریوں کو ہلاکت خیز چراگاہوں سے دور رکھتا ہے اور میں انہیں دنیا کے فریب سے بچاتا ہوں جیسے چرواہا اپنے اونٹوں کو خطرناک جگہوں سے بچاتا ہے، یہ ان کی حقارت کے لئے نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ وہ میری بخشی ہوئی عزت سے پورا حصہ پالیں ، میں اپنے دوستوں کو انکساری، خوف، دلوں کے خشوع و خضوع اور تقویٰ سے مزین کرتا ہوں جن کا اثر ان کے جسموں پر نمایاں ہوتا ہے، یہی ان کا لباس ہے، یہی ان کا ظاہر اور یہی ان کا باطن ہے، یہی ان کی مطلوبہ نجات ، تمنائیں ، قابلِ فخر عزت اور پہچان ہے، جب تم ان سے ملو، نرم برتاؤ کرو اور ان کے لئے دل اور زبان کو سراپا تواضع بناؤ اور یاد رکھو! جس نے میرے کسی دوست کو خوفزدہ کیا اس نے مجھے جنگ کی دعوت دی اور میں قیامت کے دن اس پر غضبناک ہوں گا۔
حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے ایک دن خطبہ دیا اور فرمایا: با خبر رہو! تم مرنے والے ہو، موت کے بعد پھر اٹھائے جاؤ گے اور اپنے اعمال کی جزا و سزا پاؤ گے، تمہیں دنیا کی زندگی دھو کے میں مبتلا نہ کردے، یہ مصائب میں لپٹی ہوئی، ناپائیداری میں مشہور، دھو کے سے موصوف اور اس کی ہر چیز زوال پذیر ہے، یہ اپنے چاہنے والوں میں ڈول کی طرح ہے، ہمیشہ ایک حالت میں نہیں رہتی، اس میں اترنے والا مصائب سے نہیں بچ سکتا، کبھی تو یہ اپنے چاہنے والوں پر خوشی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلیۃ الاولیاء ، ابراہیم بن عبداللہ ، ۶/۳۴۲ ، الحدیث۸۸۴۵ و فردوس الاخبار، ۳/۱۷۵، الحدیث۴۴۶۹ و تاریخ مدینہ دمشق ، ۶۱/۱۴۷مختصرا