Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
226 - 676
 والوں کو ختم کرتی چلی آئی ہے اور مٹاتی چلی جائے گی، کیا کوئی عقلمند اس سے نصیحت حاصل نہیں کرتا؟
	جب اس کا کوئی عاشق اسے پالیتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے اور اس سے کامل شغف کے باعث اپنی آخرت کو بھی بھول جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں اور وہ دائمی حسرت میں گرفتار ہو جاتا ہے، اس پر موت کی سختیاں اور دکھ طاری ہوتے ہیں ، کماحقہ نہ پانے کی حسرت اور مطلوب تک رسائی حاصل نہ کر سکنے کا افسوس اسے اور زیادہ دکھی بنادیتا ہے، اس کی روح شدید دکھ کے عالم میں بغیر کسی زادِ راہ کے نکلتی ہے اور اس کے قدم کہیں نہیں ٹکتے۔ امیرالمومنین! اس سے بچتے رہئے کیونکہ دنیا دار جب اس کی مسرت میں ڈوب جاتا ہے تو وہ اسے دکھ میں مبتلا کردیتی ہے، اس میں نقصان پانے والا فریب زدہ ہے، اس میں نفع پانے والا دوہرا فریب خوردہ ہے کیونکہ اس کی وسعت مصائب تک جا پہنچی ہے، اس کا وجود آمادئہ فنا ہے، اس کی خوشی دکھوں میں لپٹی ہوئی ہے، جو اس کا ہوجاتا ہے وہ واپس نہیں لوٹتا اور انجام سے بے خبر رہتا ہے، اس کی امیدیں جھوٹی، تمنائیں باطل، اس کا صاف گدلا، اس کی عیش مختصر ہے، انسان اگر غور کرے تو وہ اس کے خطرات میں گھرا ہوا ہے، اس کی نعمتیں پُر خطر اور اس کے اَلَم ہولناک ہیں ، اللہ تَعَالٰی نے اس کی تنبیہ کی ہے اور نصیحت فرمائی ہے، اللہ کے ہاں اس کی کوئی قدر نہیں اور نہ اللہ تَعَالٰی نے اس پر کبھی رحمت کی نظر ڈالی ہے۔ نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے حضور میں اس کے خزانے اور ان کی کنجیاں پیش کی گئیں مگر آپ نے قبول کرنے سے انکار کردیا کیونکہ اللہ تَعَالٰی کے یہاں اس کی حیثیت مچھر کے پَر سے بھی کم ہے، اگر آپ اسے قبول فرمالیتے تب بھی اللہ تَعَالٰی کے خزانوں میں کوئی فرق نہ آتا، دیکھنا! کہیں اس کی محبت میں حکمِ خدا کی مخالفت نہ ہو، اس کی الفت میں اللہ کی ناراضگی نہ ہو اور اسے اُس کے مالک کی منشا کے مخالف مقام نہ ملے۔ اللہ تَعَالٰی نے اسے بطور آزمائش مومنوں سے پھیر دیا اور اپنے دشمنوں کی فریفتگی کی وجہ سے انہیں دولت سے مالا مال کردیا، جو بیوقوف اسے پالیتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ شاید اللہ نے اسے عزت دے دی ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ تَعَالٰی کے محبوب نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اپنے شکم مبارک پر پتھر باندھے تھے۔
مذمت دنیا میں ایک اور حدیث قدسی:
	حدیث قدسی ہے، اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا کہ جب تو دولتمندی کو اپنی جانب آتا دیکھے تو سمجھ لینا کہ کسی گناہ کی سزا آرہی ہے اور جب فقر و فاقہ کو دیکھے تو کہہ خوش آمدید، کیونکہ یہ نیکوں کی علامت ہے۔ اے