Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
225 - 676
اپنے اعمال کی سزا پانے کے لئے تنہا رہ جائے۔
ایک زاہد کی ایک بادشاہ کو نصیحتیں :
	کسی تارکِ دنیا نے ایک بادشاہ سے کہا کہ دنیا کی مذمت اور اسے چھوڑ دینے کا لوگوں میں سب سے زیادہ مستحق وہ شخص ہے جو مالدار ہے اور دولت کے بل بوتے پر اپنے کام انجام دے رہا ہے، ہوسکتا ہے اس کے مال پر کوئی آفت نازل ہو کر اسے محتاج کردے یا کوئی آفت اس کی جمع کردہ پونجی اور اس کے درمیان تفرقہ ڈالدے یا کوئی بادشاہ اس کے مال و دولت کو پامال کرتا ہوا گزر جائے یا کوئی تکلیف اس کے جسم میں سرایت کر جائے یا دنیا کی کوئی جان سے پیاری چیز اسے دوستوں کی نظروں میں گرادے اور بایں طور پر بھی دنیا لائق مذمت ہے کہ یہ جو کچھ دیتی ہے واپس لے لیتی ہے، یہ ایک ہی وقت میں دو دو آدمیوں سے محبت کرتی ہے، یہ ہنسنے والوں پر ہنستی اور رونے والوں پر روتی ہے، دیتے وقت واپسی کا تقاضا بھی کردیتی ہے، آج مالداروں کے سرپر تاج رکھتی ہے اور کل اسے مٹی میں چھپا دیتی ہے، چاہے جانے والا اسی کے غم میں مر گیا ہو اور زندہ اسی کے لئے زندہ ہو، وہ ہر جانے والے کے وارث کے گلے مل جاتی ہے اور کسی تغیر و تبدل کی پرواہ نہیں کرتی۔
حضرتِ حسن بصری رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے ارشادات:
	حضرتِ حسن بصری رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو لکھا کہ یہ دنیا کوچ کی جگہ ہے، ٹھہرنے کا مقام نہیں ہے، حضرتِ آدم عَلَیْہِ السَّلَامکو آزمائش کے طور پر اس پر اتارا گیا تھا اس لئے امیر المؤمنین اس سے دور دور رہئے۔ اس دنیا کا توشہ اس کو چھوڑ دینا، اس کی سرمایہ داری فقر و فاقہ ہے، ہر وقت اپنے چاہنے والوں کو قتل کرتی رہتی ہے، عزت والے کو ذلیل اور مالدار کو فقیر بنادیتی ہے، یہ زہر ہے جسے انسان بے خبری میں کھا کر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے، اس میں جراحت کا علاج کرنے والے مجروح کی طرح طویل دکھ سے بچنے کے لئے کچھ دیر صبر کیجئے اور طویل بیماری سے بچنے کے لئے کچھ لمحوں تک علاج کی شدت برداشت کیجئے اور اس فریبی دھوکہ باز سے جو خوب بن ٹھن کر جلوہ نما ہوئی ہے اور مکر کا جال پھیلائے ہوئے ہے، جھوٹی امیدوں کی فراوانی ساتھ لائی ہے اور ایک ایسی دلہن کا انداز اپنائے ہے جسے آنکھیں دیکھنا چاہتی ہیں ، جس کے دل شیدائی ہیں اور جانیں اس پر فدائی ہیں اور یہ تمام چاہنے