Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
224 - 676
باب32
 مذمّتِ دنیا
	بعض تارکینِ دنیا کا کہنا ہے: نیک عمل کرنے میں پیش پیش رہو، اللہ تَعَالٰی سے ڈرتے رہو، جھوٹی اُمیدوں میں نہ پڑو، موت کو نہ بھولو اوردنیا سے رغبت نہ رکھو کیونکہ یہ فریبی اور مکار ہے جس نے دھوکہ دے کر راہِ خدا سے دور کردیا، اس کی جھوٹی امیدوں نے تمہیں آزمائش میں ڈال دیا اور یہ تمہارے سامنے انتہائی حسین شکل (بہروپ) میں بے پردہ دلہن بن کر آتی ہے، آنکھیں اسے دیکھتی ہیں ، دل اس پر فدا ہیں اور روحیں اس کی فریفتہ ہیں مگر اس نے کتنے عاشقوں کو قتل کر دیا اور اپنے پروانوں کو ذلت و رسوائی کے گڑھوں میں دھکیل دیا ہے؟ تم اسے نگاہِ حقیقت بین سے دیکھو تو معلوم ہوگا، یہ مصائب کا گھر ہے، اس کے خالق نے بھی اس کی مذمت کی ہے، اس کا ہر نیا پرانا ہوجاتا ہے، اس کی سلطنت ختم ہوجاتی ہے، اس کا معزز ذلیل ہوجاتا ہے، اس کی کثرت قلت میں تبدیل ہوجاتی ہے، اس کی محبت فنا ہو جاتی ہے، اس کی بھلائی گزر جاتی ہے، اللہ تم پر رحمت کرے، غفلت سے جاگو، اس کی میٹھی نیند سے بیدار ہوجاؤ قبل اس کے کہ کہا جائے: فلاں بیمار ہے یا اسے جان کے لالے پڑے ہیں ، کوئی ایسی دوا یا ایسا طبیب ہے جو اسے شفادے، پھر طبیب بلایا جائے اور وہ تیری زندگی کے بارے میں ناامیدی کا اظہار کرے، پھرکہا جائے کہ فلاں نے اپنی دولت کا حساب لگا کر وصیت کردی ہے، پھر کہا جائے: اس کی زبان بند ہوگئی اور وہ اپنے عزیزوں سے بات نہیں کرسکتا اور ہمسائیوں کو نہیں پہچان سکتا ہے، اس وقت تیری پیشانی پر پسینے کے قطرے ابھر آئیں ، تیری آہ و بکا سنائی دے، موت پر تیرا یقین راسخ ہوجائے، تیری نگاہ ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگے، تیرے اندیشے سچ ثابت ہوں ، تیری زبان گنگ ہوجائے، تیرے عزیز رونے لگیں اور تجھ سے کہا جائے: وہ تیرا فلاں بیٹا ہے، یہ تیرا فلاں بھائی ہے مگر تو ان سے گفتگو نہ کرس کے، تیری زبان پر مہر لگ جائے،  تو اِسے ہلا نہ س کے پھر تجھ پر موت طاری ہو، تیرے تمام اعضاء سے روح نکالی جائے اور اسے آسمان کی طرف لے جایا جائے، اس وقت تیرے بھائی تجھ پر جمع ہوجائیں ، تیرے لئے کفن لایا جائے، پھر تجھے نہلا کرکفن پہنا یا جائے، تیری تمام امیدیں منقطع ہوجائیں اور تیرے دشمن سکون کا سانس لیں ، تیرے اہلِ خانہ تیرے مال کی طرف متوجہ ہوں اور تو