(تو کیا حال ہوگا)۔
حضرتِ بکر بن عبداللہ رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ جو شخص دنیا کے ساتھ دنیا سے بے پروائی برتنا چاہتا ہے وہ شخص آگ کو بھوسے سے بجھا رہا ہے (اس سے تو آگ اور بھڑ کے گی)۔
حضرت بندار رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ جب تو دنیا سے کنارہ کشی کی باتیں کرنے والے دنیاداروں کو دیکھے تو سمجھ لینا کہ یہ شیطان کے مرید ہیں ۔ مزید فرمایا: جو دنیا کی طرف متوجہ ہوا اس کے شعلے (حرص) نے اسے راکھ کردیا، جو آخرت کی طرف متوجہ ہوا اس کے شعلوں نے اسے کندن کا ایک ٹکڑا بنادیا اور جس نے رب تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اس کی وحدت کی آگ نے اسے بے مثال ہیرا بنا دیا۔
حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا ارشاد ہے؛ دنیا کی چھ چیزیں ہیں :
{1}…کھانے کی {2}… پینے کی {3}… پہننے کی
{4}… سوار ہونے کی {5}… شادی کرنے کی اور {6}… سونگھنے کی۔
٭ سب سے بہتر کھانے کی چیز شہد ہے اور وہ مکھی کا لعاب ہے۔
٭پینے کی سب سے عمدہ چیز پانی ہے اور اس میں سب اچھے برے شریک ہیں ۔
٭پہننے کی سب سے عمدہ چیز ریشم ہے اور وہ کیڑے کا بُنا ہوا ہے۔
٭سب سے بہتر سواری گھوڑے کی ہے اور اسی پر انسان کو قتل کیا جاتا ہے۔
٭شادی کے لئے عورت عمدہ چیز ہے مگر یہ محلِ مباشرت کے سوا کچھ نہیں ۔ عورت کی سب سے عمدہ چیز (چہرے) کو سنوارا اور سب سے بری چیز (فرج) کو چاہا جاتا ہے۔
٭سونگھنے والی چیزوں میں مشک سب سے عمدہ ہے اور یہ خون ہوتا ہے۔ بس سمجھ لو کہ دنیا کیا چیز ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭