Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
222 - 676
جس نے اسے طلب کیا۔ ایک اور دانا کا قول ہے کہ دنیا ایک ویران گھر ہے اور وہ دل دنیا سے بھی زیادہ ویران ہے جو اس کی جستجو میں سرگرداں ہے، جنت ایک آباد گھر ہے وہ دل جنت سے بھی زیادہ آباد ہے جو اسے طلب کرتا ہے۔
امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ  عَلَیْہ کی اپنے بھائی کو نصائح:
	حضرتِ جنید رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ امامِ شافعی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ دنیا میں حق گو انسانوں میں سے تھے، انہوں نے اپنے بھائی کو خوفِ خدا کی نصیحت کی اور فرمایا: اے بھائی! یہ دنیا لغزش کی جگہ اور رسوا کرنے والا گھر ہے، اس کی آبادی ویرانی کی طرف اور اس میں رہنے والے قبروں کی طرف جارہے ہیں ، اس کی قلیل چیز بھی جدا ہونے والی ہے، اس کا تمول مفلسی کی طرف رواں دواں ہے، اس کی کثرت قلت ہے اور اس کی مفلسی میں مالداری ہے، اللہ کی طرف توجہ کر اور اس کے عطا کردہ رزق پر راضی ہوجا، جنت کو دنیا میں گروی نہ رکھ کیونکہ تیری زندگی ڈھلتا ہوا سایہ اور گرتی ہوئی دیوار ہے، لہٰذا عمل زیادہ کر اور امیدیں کم کردے۔
	حضرتِ ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ نے ایک شخص سے کہا کہ تو خواب کے ایک درہم کو یا بیداری کے ایک دینار کو اچھا سمجھتا ہے؟ اس نے کہا: بیداری کے ایک دینار کو اچھا سمجھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: تم جھوٹ کہتے ہو کیونکہ دنیا کے ساتھ تیری محبت خواب کی محبت ہے اور آخرت کے ساتھ محبت بیداری کی محبت ہے۔ حضرت اسمٰعیل بن عیاش رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ ہمارے دوست دنیا کو خنزیر کا نام دیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم سے دور رہ! اگر انہوں نے دنیا کے لئے اس سے بُرا نام پایا ہو تا تو ضرور اس کا نام وہی رکھتے۔
	حضرتِ کعب رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے: تم نے دنیا سے اتنی محبت کی ہے کہ اسے پوجنے لگے ہو۔
	حضرتِ یحییٰ بن معاذرازی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ دانا تین ہیں :
{1}…جس نے دنیا کو چھوڑنے سے پہلے دنیا کو ترک کردیا۔
{2}…قبر میں جانے سے پہلے اسے بنالیا اور 
{3}…بارگاہِ رب العزت میں حاضری سے پہلے اسے راضی کر لیا۔
	مزید فرمایا کہ دنیا کی تمنا ہی انسان کو اللہ کی ’’عبادت‘‘ سے روک دیتی ہے چہ جائیکہ انسان سراپا دنیا ہی کا ہو جائے