مبتلا نہیں ہیں ، علاوہ اَزیں گناہوں کے کوہِ گراں کا بار بھی ہماری گردنوں پر موجود ہے۔
حضرت ابو حازم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں کے حصول میں دشواریاں ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ آخرت کے حصول میں آپ کسی کو مددگار نہیں پائیں گے مگر دنیا کے حصول میں جب بھی کسی چیز کی جانب ہاتھ بڑھاؤ گے تو دوسرے بدبخت کو اپنے سے پہلے موجود پاؤ گے۔
حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے جب سے دنیا کو پیدا کیا ہے وہ زمین و آسمان کے درمیان پرانے مشکیزے کی طرح لٹکی ہوئی ہے اور اسی طرح قیامت تک لٹکتی رہے گی، جب وہ اللہ تَعَالٰی سے سوال کرتی ہے اے اللہ! تو نے مجھے کیوں ناپسند فرمایا ہے؟ تو رب کریم فرماتا ہے: اے ناچیز خاموش رہ!
حضرتِ عبد اللہ بن مبارک رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ جب دنیا کی محبت اور گناہوں نے دل کو اپنا شکار بنا لیا ہے، اب اس میں بھلائی کیسے پہنچ سکتی ہے۔
حضرتِ وہب بن منبہ رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کاقول ہے: جس شخص کا دل کسی دنیاوی چیز سے خوش ہوگیا وہ دانائی سے ہٹ گیا اور جس نے دنیاوی خواہشات کو اپنے پیروں تلے روند دیا، شیطان اس کے سائے سے بھی بھاگتا ہے اور جس کا علم خواہشات پر غالب آگیا ، حقیقت میں وہی غالب ہے۔
دنیا سے محبت رکھنے والے کو آخرت نفع نہیں دیتی:
حضرتِ بِشر رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے کہا گیا کہ فلاں آدمی مر گیا ہے، آپ نے فرمایا: اس نے دنیا کو جمع کیا اورآخرت کو ضائع کردیا۔ لوگوں نے کہا: وہ تو یہ یہ نیکیاں کیا کرتا تھا۔ آپ نے فرمایا:’’ جس کے دل میں دنیا کی محبت ہو، اسے نیکی نفع نہیں پہنچاتی۔
ایک صالح کا قول ہے کہ دنیا ہم سے نفرت کرتی ہے مگر ہم اس کے پیچھے بھاگتے ہیں ، اگر وہ بھی ہم سے محبت کرتی ہوتی تو خدا جانے ہمارا کیا حال ہوتا!
ترکِ دنیا و طلب دنیا:
ایک دانا سے پوچھا گیا کہ دنیا کس کی ہے؟ کہا: جس نے اسے چھوڑ دیا، پوچھا گیا: آخرت کس کی ہے؟ فرمایا: