حضرتِ ابو حازم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ دنیا میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جوتجھے مسرور کرے مگر اللہ تَعَالٰی نے اس میں ایک ایسی صفت بھی رکھ دی ہے جو تجھے بری معلوم ہوگی۔
حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ ہر انسان دل میں تین حسرتیں لے کر مرتا ہے ایک یہ کہ وہ اپنے جمع کردہ مال سے سیر ہوتا اوروہ سیر نہیں ہوا، دوسرے یہ کہ اپنی اُمیدوں کوپایۂ تکمیل تک پہنچاتا مگر نہ پہنچا سکا اور تیسرے یہ کہ وہ آخرت کے لئے نیک عمل بھیجتا اور نہ بھیج سکا۔
ایک بندئہ مومن سے کسی نے کہا کہ میں نے ’’غنا‘‘ کو پالیا ہے۔ اس نے کہا: جس نے خود کو دنیا کی غلامی سے آزاد کرلیا، حقیقی مالداری اسی نے پائی۔ (یعنی غنا کو پانے کا دعویٰ وہی کرسکتا ہے)
حضرتِ ابو سلیمان رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ دنیاکی خواہشات سے وہی رکتا ہے جس کے دل میں آخرت کی فکر ہوتی ہے۔ حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا فرمان ہے کہ ہم نے محبت دنیا میں ایک دوسرے سے صلح کرلی ہے، ہم میں سے کوئی کسی کو نہ حکم دیتا ہے، نہ منع کرتا ہے حالانکہ اللہ تَعَالٰی نے ہمیں اس چیز کا حکم نہیں فرمایا،کیا خبر ہم کس قسم کے عذاب میں مبتلا ہونگے۔
حضرتِ ابو حازم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ دنیا کی معمولی سی محبت بھی آخرت سے کافی بے توجہی پیدا کردیتی ہے۔
حضرت حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کی بے قدری کرو، یہ اپنی بے قدری کرنیوالوں پر بہت آسان ہے۔ مزید ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تَعَالٰی کسی بندہ کی بہتری کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دنیا کا عطیہ دیتا ہے، جب وہ ختم ہو جاتی ہے تو اور دے دیتا ہے اور جب بندہ دنیا کو حقیر سمجھنے لگتا ہے تو اللہ تَعَالٰی اسے بے اندازہ مال و دولت دے دیتا ہے۔
ایک صالح اپنی دعا میں کہا کرتے تھے کہ اے آسمانوں کو زمین پر گرنے سے روکنے والے! مجھ سے دنیا کو روک لے۔ (مجھے دنیا نہ دے)
حضرت محمد بن منکدر رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ قیامت کے دن ایسے شخص بھی ہوں گے جنہوں نے زندگی کے دن روزوں میں اور راتیں عبادت میں گزاری ہوں گی، راہِ خدا میں مال و دولت خرچ کیا ہوگا، راہِ خدا میں جہاد کیا ہوگا اور منکرات سے اپنا دامن بچایا ہوگا مگر ان کے بارے میں کہا جائیگا: یہ وہ ہیں جنہوں نے رب کی حقیر کردہ چیز کو بہت بڑا سمجھا تھا اور رب کی باعظمت چیزوں کو انہوں نے حقیر سمجھا تھا، ذرا سوچو تو سہی ہم میں کتنے ایسے ہیں جو اس مصیبت میں