Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
219 - 676
ہیں ، اگر انسان دنیا کے کسی شغل کا دروازہ کھول دیتا ہے تو اس پر دنیا کے دس اور دروازے خودبخود وَا ہوجاتے ہیں ۔ 
	مزید فرمایا کہ انسان کتنا مسکین ہے، ایک ایسے گھر پر راضی ہوگیا ہے جس کے حلال کا حساب ہوگا اور حرام پر عذاب! اگر وہ کسب حلال سے دنیا حاصل کرتا ہے تو قیامت کے دن اس سے اس کا حساب لیا جائے گا اور اگر مالِ حرام کھاتا ہے تو عذاب میں مبتلا ہوگا، انسان مال کو کم سمجھتا ہے مگر افسوس کہ عمل کو کم نہیں سمجھتا، دینی مصیبت پر خوش ہوتا ہے اور دنیاوی مصیبت پر فریاد و فغاں کرتا ہے۔
	  حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے حضرتِ عمر بن عبدالعزیز کو ایک خط لکھا جس میں بعد از تسلیمات تحریر فرمایا کہ تم آخری انسان ہو جنہوں نے موت کا پیالہ پیا۔ آپ نے جواب میں لکھا: بعد از تسلیم گویا تم دنیا میں کبھی نہیں رہے اور ہمیشہ آخرت میں رہے ہو۔ (یعنی میری طرح دنیا میں تم بھی رہتے ہو اور موت کا پیالہ تم کو بھی پینا ہے)
	حضرتِ فضیل بن عیاض رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ دنیا میں آنا آسان ہے مگر اس سے نکلنا سخت مشکل ہے۔
	بعض صوفیاء کا قول ہے کہ اس شخص پر انتہائی تعجب ہے جو موت کو حق سمجھتے ہوئے بھی مسرور ہے! جہنم کو یقینی سمجھتے ہوئے بھی ہنستا ہے! دنیا کی ہلاکتوں کو دیکھتے ہوئے بھی مطمئن ہے! تقدیر خدا کو یقینی سمجھتے ہوئے بھی غمگین ہے!
	حضرتِ امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے پاس نجران کا ایک ایسا شخص آیا جس کی عمر دو سو سال تھی، آپ نے پوچھا: تو نے دنیا کوکیسا پایا؟ کہنے لگا: بری بھی ہے بھلی بھی ہے، دن کے بدلے دن اور رات کے بدلے رات، اس کی برائی اور بھلائی برابر رہتی ہے، بچہ پیدا ہوتا اور اسے ہلاک کرنے والا ہلاک کردیتا ہے اگر نئی مخلوق پیدا نہ ہوتی رہتی تو مخلوق بہت پرانی اور ویران ویران سی ہوجاتی اور اگر ہلاک کرنے والا نہ ہوتا تو یہ دنیا مخلوق سے بھر جاتی اور اپنی تمام تر وسعت کے باوجود تنگ ہوجاتی۔ آپ نے فرمایا: کچھ مانگنا ہو تو مانگو، اس نے جواب دیا: میری گزشتہ عمر لوٹا دیجئے یا اجلِ مقررہ کو ٹال دیجئے، آپ نے فرمایا: یہ چیزیں تو میرے دائرئہ اِختیار میں نہیں ہیں ، اس شخص نے جواب دیا: پھر آپ سے مجھے کچھ اور مانگنا نہیں ہے۔
	حضرتِ داؤد طائی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ اے انسان! تو اُمیدوں کو پاکر خوش ہو رہا ہے حالانکہ تیری اَجل قریب آگئی ہے اور تو نے نیک اَعمال میں تاخیر کی ہے، گویا یہ تیرے نہیں کسی اور کے کام آتے۔
	حضرتِ بِشر رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ  کا قول ہے کہ جو شخص اللہ سے دنیا مانگتا ہے وہ گویا اللہ کی بارگاہ میں بہت دیر تک حساب کے لئے ٹھہرنے کا سوال کرتا ہے۔