کے استقبال کے لئے حاضر ہوئے جس کی نکیل رسی کی تھی، سلام و دعا کے بعد حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ ان کے خیمہ میں تشریف لائے، وہاں اونٹ کے پالان، تلوار اور ڈھال کے علاوہ کچھ نہیں تھا، حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے پوچھا: کوئی اور سامان بھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہمارے آرام کے لئے یہی کچھ کافی نہیں ہے؟
حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ دنیا کی محبت میں ڈوب کر بنی اسرائیل نے اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر بتوں کی عبادت شروع کی تھی۔
حضرتِ سفیان رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ بدن کے لئے دنیاوی غذا حاصل کرو اور دل کے لئے اُخروی غذا کی تلاش کرو۔
حضرت وہب رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے، میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ دنیا، عقلمندوں کے لئے مالِ غنیمت اور جاہلوں کے لئے سامانِ غفلت ہے، اُنہوں نے اس کی حقیقت نہ جانی یہاں تک کہ دنیاسے کوچ کر گئے، جب وہاں ان پر اس کی حقیقت منکشف ہوئی توانہوں نے واپسی کا سوال کیا جو نا منظور ہوا۔
حضرتِ لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے! اگر تو نے دنیا سے بے توجہی برتی اور آخرت کی طرف متوجہ رہا تو ایسے گھر کے قریب پہنچ گیا جو اس گھر سے بدرجہا بہتر ہے۔
حضرتِ سعید بن مسعود رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جس کی دنیا بڑھ رہی ہو اور آخرت کم ہورہی ہومگر وہ اس بات پر راضی ہو تو سمجھ لوکہ وہ شخص فریب خوردہ ہے کہ اس کی صورت مسخ کی جارہی ہے اور اسے محسوس بھی نہیں ہورہا ہے۔
حضرتِ عمرو بن العاص رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: بخدا! میں نے تم جیسی قوم نہیں دیکھی، جس چیز سے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کنارہ کش رہے تم اس میں مگن ہو، بخدا نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر ایسے تین دن کبھی نہیں گزرے کہ ان پر ان کے مال سے زیادہ قرض نہ ہو۔
حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے یہ آیت: ’’ فَلَا تَغُرَّ نَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ‘‘(1) پڑھ کر فرمایا کہ جانتے ہو یہ کس کا فرمان ہے؟ یہ خالق دنیا، مالک دنیا رب تعالیٰ کا فرمان ہے۔ خودکودنیا کی مشغولیت سے بچاؤ! دنیا میں بہت سے شغل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان: تو ہر گز تمہیں دھوکہ نہ دے دنیا کی زندگی ۔(پ۲۱، لقمٰن : ۳۳)