Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
217 - 676
	حضرتِ مالک بن دینار رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ  کا قول ہے کہ زبردست جادوگر سے بچو جو علماء کے دلوں پر بھی جادو چلا لیتی ہے اور فرمایا گیا: وہ جادو گر دنیا ہے۔
دنیا کس صورت میں مزاحمت کرتی ہے:
	حضرتِ ابو سلیمان الدارانی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ جب دل میں آخرت کا تصور بسا ہوا ہو تو دنیا اس سے مزاحمت کرتی ہے اور جب دل میں دنیا کا تصور جاگزیں ہو تو آخرت کوئی مزاحمت نہیں کرتی اس لئے کہ آخرت کے تصورات کریمانہ ہیں اور دنیاوی وساوس انتہائی جاہلانہ ہیں اور یہ بہت بڑی بات ہے۔ ہمارے خیال میں اس سلسلہ میں جناب سیار بن الحکم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کی بات زیادہ دانشمندانہ ہے، انہوں نے کہا ہے:دنیا اور آخرت دونوں دل میں جمع ہوتی ہیں پھر ان میں جو غالب آجائے دوسرا فریق اس کا تابع بن جاتا ہے۔
دنیا کا غم بڑھتا ہے تو آخرت کا غم کم ہوجاتا ہے:
	حضرتِ مالک بن دینار رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ        کا ارشاد ہے: تم جس قدر دنیا کے لئے غمگین ہوتے ہو اسی قدر آخرت کا غم کم ہوجاتا ہے اور جس قدر آخرت کا غم کھاتے ہو اسی قدر دنیا کا غم مٹ جاتا ہے، آپکا یہ قول حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے اس ارشاد سے ماخوذ ہے کہ دنیا اور آخرت دو سَوکنیں ہیں ، ایک کو جتنا راضی کرو گے، دوسری اتنی ہی ناراض ہوگی۔
	حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے: بخدا !رب نے ایسی قومیں بھی پیدا کی ہیں جن کے سامنے یہ دنیا مٹی کی طرح بے وقار تھی، انہیں دنیا کے آنے جانے کی کوئی پرواہ نہیں تھی چاہے وہ اِس کے پاس ہو یا اُس کے پاس ہو۔
	کسی نے حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جس کو اللہ تَعَالٰی نے مال دیا ہے، وہ اس سے راہِ خدا میں دیتاہے اور صلہ رحمی کرتا ہے، کیا ایسا شخص تلاشِ معاش کرے تاکہ کچھ اور دنیا حاصل کرے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، اگر ساری دنیا اسی کے دامن میں سمٹ آئے تب بھی اس کے لئے بس ایک دن کی روزی ہوگی۔
	  حضرتِ فضیل رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ اگر مجھے ساری دنیا کسبِ حلال کی صورت میں مل جائے مگر آخرت کی بھلائی اس میں نہ ہوتو میں اس سے اس طرح دامن بچا کے نکل جاؤں گا جیسے تم مردار سے دامن بچا کے نکل جاتے ہو۔
	جب حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ شام کی مملکت میں داخل ہوئے تو حضرتِ ابوعبیدہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایک اونٹنی پر آپ