Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
216 - 676
کم قد ابادت صروف الدھر من ملک		قد کان  فی الدھر نفاعا   و  ضرارا
یامن    یعانق    دنیا    لا    بقاء    لہ			یمسی و یصبح  فی  دنیاہ  صفارا
ھلا    ترکت   من   الدنیا   معانقۃ			حتی  تعانق  فی  الفردوس  ابکارا
ان کنت تبغی جنان الخلد تسکنھا		فینبغی   لک  ان   لا   تامن  النارا
{1}…اے اول رات میں خوش خوش سونے والے! حوادثاتِ زمانہ کبھی رات کے آخری حصہ میں بھی نازل ہوتے ہیں ۔ 
{2}…دن رات کی گردش نے ان صدیوں کو بھی فنا کردیا جو خوشحالی میں بے مثال تھیں ۔ 
{3}…گردشِ دوراں نے ایسے کتنے ملکوں کو ویران کردیا جو زمانہ میں سکھ دکھ دینے والے تھے۔
{4}… اے فانی دنیا کو گلے لگانے والے! تو صبح و شام سفر میں ہے (پھر گلے لگانے سے کیا فائدہ؟)
{5}…تو نے دنیا سے تعلق ختم کیوں نہیں کیا تاکہ جنت الفردوس میں عفت مآب حوروں سے ہم آغوش ہوسکتا۔
{6}…اگر تو جنت میں سکونت کا خواہشمند ہے تو تجھے نارِ جہنم سے بے خوف نہیں ہونا چاہئے۔
	حضرتِ ابوامامہ باہلی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ جب حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو مبعوث فرمایا گیا تو شیطان اپنے لشکر کے پاس آیا، انہوں نے شیطان سے کہا: ایک نبی مبعوث ہوا ہے اور اس کے ساتھ اس کی امت بھی ہے۔ شیطان نے پوچھا: کیا وہ لوگ دنیا کو پسند کرتے ہیں ؟ اُنہوں نے کہا: ہاں ۔ شیطان نے کہا: پھر تو کوئی پروا نہیں ، اگر وہ بتوں کو نہیں پوجتے تو نہ پوجیں ، ہم انہیں تین باتوں میں پھنسائیں گے: دوسرے کی چیز لے لینا، غیر پسندیدہ جگہوں پر خرچ کرنا اور لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنا، یہی تین چیزیں تمام برائیوں کی بنیاد ہیں ۔ (1)
	ایک آدمی نے حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے دنیا کی تعریف پوچھی: آپ نے فرمایا: میں اس گھر کی کیا تعریف کروں جس کا صحت مند اصل میں بیمار، جس کا بے خوف پشیمان، جس کا مفلس غمگین، جس کا مالدار مصائب میں مبتلا ہو اور جس کے حلال کا حساب ہو، حرام پر عذاب ہو اور مشکوک پر ملامت ہو۔ یہی بات آپ سے دوسری مرتبہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: وضاحت سے بیان کروں یا مختصر جواب دوں ؟عرض کیا گیا: مختصراً فرمائیے! آپ نے فرمایا: اس کے مالِ حلال کا حساب ہے اور حرام پر عذاب ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…شعب الایمان، الحادی و السبعون من شعب الإیمان، باب فی الزہد و قصر الأمل، ۷/۳۳۸، الحدیث۱۰۵۰۲