Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
215 - 676
{2}…تیری دنیا سائے کی طرح ہے، کچھ دیر تیرے اوپر سایہ گستر رہے گی اور پھر ڈھل جائیگی۔
	حضرتِ لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے! دنیا کو آخرت کے لئے بیچ دے دونوں طرف سے نفع اٹھائے گا اور آخرت کو دنیا کے لئے نہ بیچ کہ دونوں طرف سے نقصان میں رہے گا۔
    حضرت مطرف بن شخیر رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ بادشاہوں کے عیش و نشاط اور نرم و نازک لباس کو نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ وہ دنیا سے کتنی جلدی جارہے ہیں اور کیسا بُرا ٹھکانا ان کو ملے گا۔
	حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کا قول ہے، اللہ تَعَالٰی نے دنیا کے تین حصے کئے ہیں ، ایک حصہ مومن کے لئے، دوسرا منافق کے لئے اورتیسرا حصہ کافر کا ہے۔ مومن اسے زادِ راہ بناتا ہے، منافق زیب و زینت کرتا ہے اور کافر اس سے نفع اندوز ہوتا ہے۔
	بعض صالحین کا قول ہے کہ دنیا مردار ہے، جو اسے حاصل کرنا چاہتا ہے وہ کتوں کی زندگی بسر کرنے پر تیار ہے، اسی لئے کہا گیا ہے:   ؎
			یاخاطب الدنیا الی نفسہا		تنح   عن   خطبتہا   تسلم
			ان  التی   تخطب   غدارۃ		قریبۃ  العرس  من  الماتم

{1}…اے دنیا کو اپنے قریب بلانے والے! تو اسے نہ بلا، سلامت رہے گا۔
{2}…جس فریبی کو تم اپنے پاس بلارہے ہو وہ ہیبت ناک اور گناہ سے معمور چیز ہے۔ 
	حضرتِ ابوالدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ اللہ تَعَالٰی کے یہاں دنیا کی بے قدری اس لئے ہے کہ ہر گناہ اسی میں پروان چڑھتا ہے اور اس سے کنارہ کشی کئے بغیر اللہ تَعَالٰی کی نعمتوں کو نہیں پایا جاسکتا، اسی لئے کہا گیا ہے :   ؎
اذا امتحن الدنیا لبیب تکشفت		لہ  عن  عدو فی  ثیاب  صدیق
{1}…جب عقلمند نے دنیا کو جانچا تو اسے دوست کے لباس میں ایک دشمن نظر آیا۔
	اسی موضوع پر چند اشعار یہ بھی ہیں :   
یاراقد    اللیل     مسرورا     باولہ		ان  الحوادث  قد  یطرقن  اسحارا
افنی  القرون   التی  کانت   منعمۃ		کر   الجدیدین   اقبالا    و  ادبارا