مہمان آخر کوچ کرجاتا ہے اور مستعار چیز واپس کرنی پڑتی ہے۔
اسی موضوع پر ایک اور شاعر نے اس طرح اظہارِ خیال کیا ہے: ؎
وما المال والاھلون الا ودیعۃ ولابد یوما ان ترد الودائع
{1}…یہ مال اور اولاد مستعار چیزیں ہیں انہیں ایک دن یقینا واپس کرنا ہے۔
حضرتِ رابعہ رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہَا کے یہاں ان کے ساتھی جمع ہوئے اور دنیا کی مذمت کا ذکر چھیڑ دیا۔ آپ نے کہا: چپ ہوجاؤ! دنیا کا ذکر نہ کرو! شاید تمہارے دلوں کے کسی گوشے میں دنیا کی محبت ضرور موجود ہے کیونکہ جس شخص کو جس چیز سے محبت ہوجاتی ہے وہ اکثر اس کا ذکر کرتا ہے۔
حضرتِ ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے دنیا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ؎
نرفع دنیانا بتمزیق دیننا فلا دیننا یبقی ولا ما نرفع
فطوبی لعبد اثر اللہ ربہ وجاد بدنیاہ لما یتوقع
{1}…ہم نے دنیا کے لئے دین کو پارہ پارہ کر دیا مگر نہ دنیا ملی اور نہ دین باقی رہا۔
{2}…وہ بندہ خوش نصیب ہوتا ہے جس نے اللہ کی طرف توجہ کی اور دنیا کو بہتر آخرت کی امید میں صرف کردیا۔
ایک اور شاعر کہتا ہے: ؎
اری طالب الدنیا وان طال عمرہ ونال من الدنیا سرورا وانعما
کبان بنی بنیانہ فاقامہ فلما استوی ما قد بناہ تہدما
{1}…دنیا کے طلبگار کی اگرچہ طویل عمر ہو اور اسے ہر قسم کا عیش و نشاط میسر ہو۔
{2}…مگر میں اسے اس شخص جیسا سمجھتا ہوں جس نے ایک عمارت بنائی اور وہ عمارت مکمل ہوتے ہی زمیں بوس ہوگئی ہو۔
ایک اور شاعر کہتا ہے: ؎
ھب الدنیا تساق الیک عفوا الیس مصیر ذاک الی انتقال
وما دنیاک الا مثل فی ء اظلک ثم اذن بالزوال
{1}…یہ دنیا آخر کسی اور کی طرف منتقل ہوجائے گی، اسے راہِ خدا میں خرچ کردے، تجھے بخشش سے ہمکنار کرادے گی۔