Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
213 - 676
ہوں کیونکہ اس کی زندگی قلیل ہے، اس کی صفا میں بھی کدورت ہے، اس میں رہنے والے اس کے زائل ہونے، مصیبت کے نازل ہونے اور موت کے آنے سے سخت خوفزدہ رہتے ہیں ۔ ‘‘
	ایک اور دانا کا قول ہے: دنیا انسان کواس کی منشا کے مطابق نہیں ملتی، یاتو زیادہ ملتی ہے یا پھر کم۔ حضرتِ سفیان رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے: تم دنیا کی نعمتوں کو دیکھو وہ اپنی برائی کی وجہ سے ہمیشہ نالائقوں کے پاس ہی ہوتی ہیں ۔ 
	حضرتِ ابو سلیمان الدارانی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ جب کسی طالب دنیا کو دنیا ملتی ہے تو وہ زیادہ کی تمنا کرتا ہے اور جب کسی طالب آخرت کو آخرت کا اجر ملتا ہے تو وہ زیادہ کی تمنا کرتا ہے، نہ اِس کی تمنا ختم ہوتی ہے اور نہ اُس کی تمنا ختم ہوتی ہے۔
	ایک شخص نے حضرت ابو حازم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے دنیا کی محبت کا شکوہ کیا اور یہ بھی بتلایا کہ میرا کوئی گھر نہیں ہے۔ آپ نے کہا: جو کچھ تم کو اللہ نے دیا ہے اس میں سے صرف رزقِ حلال لے لو اور اسے صحیح مصرف میں خرچ کرو، اس طرح تم کو دنیا کی محبت کوئی نقصان نہیں دے گی اور آ پ نے یہ اس لئے فرمایا کہ اگر تو نے اپنے نفس کو اس سے لگایا تو یہ تجھے ایسی تکلیف میں ڈال دے گی کہ تو دنیا سے تنگ ہو جائے گا اور اس سے نکلنے کی کوشش کرے گا۔
	حضرتِ یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ دنیا شیطان کی دکان ہے، اس میں سے کچھ نہ لو، اگر تم نے کچھ لے لیا تو شیطان تلاش کرتا ہواتم تک پہنچ جائے گا۔
خالص سونے پر خزف ریزے کو ترجیح کس طرح ہوسکتی ہے؟
	  حضرتِ فضیل رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ اگر دنیا مٹ جانیوالے سونے اور آخرت باقی رہنے والی ٹھیکری کی ہوتی، تب بھی فانی چیز پر باقی رہنے والی چیز کو ترجیح دینا مناسب ہوتا چہ جائیکہ یہ دنیا ٹھیکری ہے اور آخرت خالص سونا ہے مگر ہم نے پھر بھی دنیا کو پسند کرلیا ہے۔
	حضرتِ ابو حازم رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ طلب دنیا سے بچو، میں نے سنا ہے جو شخص دنیا کی توقیر کرتا ہے، قیامت کے دن اسے بارگاہِ خداوندی میں کھڑا کر کے کہا جائے گا: یہ اس چیز کی عزت کرتا تھا جسے اللہ نے ذلیل پیدا کیا تھا۔
	حضرتِ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے:اس دنیا میں ہر شخص بطورِ مہمان ہے اور یہاں کی ہر چیز مستعار ہے،