دنیا ایک گہرا سمندر ہے:
حضرتِ لقمان رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ نے اپنے بیٹے کو وصیت کی کہ یہ دنیا بہت گہرا سمندر ہے، اس میں بہت لوگ غرق ہوگئے ہیں ، اس سے گزرنے کے لئے خوفِ خدا کی کشتی بنا، جس میں بھراؤ ایمانِ خداوندی کا ہو اور اسے توکل کے راستوں پر چلاتا کہ نجات پاجائے ورنہ نجات کی کوئی صورت نہیں ہے۔
حضرت فضیل رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ میں اس اَرشاد ربانی :
’’بلا شبہ ہم نے زمین کی چیزوں کو زمین کے لیے زینت بنا دیا ہے تاکہ آزمائیں کون اچھے عمل کرتا ہے اور ہم ان چیزوں کو بنجر ناقابل زراعت بنانے والے ہیں ۔ ‘‘(1)
میں بہت غور و فکر کرتا ہوں ۔ ایک حکیم کا قول ہے کہ تجھے دنیا میں جو کچھ ملا ہے تجھ سے پہلے بھی کچھ لوگ اس کے مالک بنے تھے اور تیرے بعد بھی اور لوگ اس کے مالک بنیں گے، تیرے لئے دنیا میں صبح و شام کی روٹی ہے، اس روٹی کے لئے خود کو ہلاکت میں نہ ڈال، دنیا سے روزہ رکھ اور آخرت پر افطار کر، دنیا کا مال خواہشات ہیں اور ان کا منافع نارِ جہنم ہے۔
کسی راہب سے زمانہ کے متعلق پوچھا گیا، اس نے جواب دیا :یہ جسموں کو پرانا کرتا ہے، امیدیں بڑھاتا ہے، موت کو قریب کرتا ہے اور آرزوؤں کو دور کر دیتا ہے۔ دنیا والوں کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے کہا: جس نے دنیا کو پالیا وہ دکھ میں مبتلا ہوا اور جس نے اسے نہ پایا وہ مصیبت میں گھِر گیا اسی لئے کہا گیا ہے: ؎
ومن یحمد لدنیا بعیش یسرہ فسوف لعمری عن قلیل یلومہا
اذا ادبرت کانت علی المرء حسرۃ وان اقبلت کانت کثیرۃ ھمومہا
{1}…جو دنیاوی عیش و عشرت کے سبب اس کی تعریف کرتا ہے، مجھے زندگی کی قسم عنقریب وہ اسے برابھلا کہے گا۔
{2}…جب دنیا چلی جاتی ہے تو حسرت چھوڑ جاتی ہے اور جب آتی ہے تو بہت سے غم ساتھ لے کر آتی ہے۔
ایک دانا کا قول ہے: ’’دنیا تھی اور میں نہیں تھا، یہ دنیا رہے گی اور میں نہیں رہوں گا، میں اس کی پروا نہیں کرتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:بے شک ہم نے زمین کا سنگار کیا جو کچھ اس پر ہے کہ انہیں آزمائیں، ان میں کس کے کام بہتر ہیں اور بے شک جو کچھ اس پر ہے، ایک دن ہم اسے پٹ پر (چٹیل ،بے کار) میدان کر چھوڑیں گے۔ (پ۱۵، الکھف : ۷،۸)