حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: میرے بعد تم پر دنیا آئے گی اور تمہارے ایمان کو ایسے کھا جائیگی جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔
دنیا کی محبت سب سے بڑا گناہ ہے:
اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی کی: اے موسیٰ! دنیا کی محبت میں مشغول نہ ہونا، میری بارگاہ میں اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں ہے۔
روایت ہے کہ حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ایک روتے ہوئے شخص کے پاس سے گزرے، جب آپ واپس ہوئے تو وہ شخص ویسے ہی رورہا تھا، موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے باری تعالیٰ سے عرض کیا: یا اللہ! تیرا بندہ تیرے خوف سے رورہا ہے، اللہ تَعَالٰی نے فرمایا: موسیٰ! اگر آنسو کے راستے اس کا دماغ باہر نکل آئے اور اس کے اٹھے ہوئے ہاتھ ٹوٹ جائیں تب بھی میں اسے نہیں بخشوں گا؛ یہ دنیا سے محبت رکھتا ہے۔
حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ جس شخص میں چھ عادتیں پائی جاتی ہیں وہ نارِ جہنم سے دور اور جنت کا مطلوب ہے:
{1}… اللہکو پہچان کر اس کی عبادت کی۔
{2}…شیطان کو پہچان کر اس کی مخالفت کی۔
{3}…حق کو پہچان کر اس کی اتباع کی۔
{4}…باطل کو پہچان کر اس سے اجتناب کیا۔
{5}…دنیا کو پہچان کر اسے ترک کردیا اور
{6}…آخرت کو پہچان کر اس کا طلبگار رہا۔
حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے ان لوگوں پر رحم فرمایا جن کے پاس دنیا امانت کے طور پر آئی اور انہوں نے اسے خیانت کے بغیر لوٹا دیا اور اللہ کی بارگاہ میں بہت سبک بار روانہ ہوئے۔
مزید فرمایا: جو تجھے دین کی طرف رغبت دلائے اسے قبول کرلے اور جو تجھے دنیا کی طرف رغبت دلائے ، اسے اس کے گلے میں ڈال دے۔ (قبول نہ کر)