ہو، تم ایمان کی حقیقت کو پہچانتے ہی نہیں ۔ اگر تمہیں محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی لائی ہوئی کتاب (قرآنِ مجید) میں شک ہے تو ہمارے پاس آؤ! ہم تمہاری ایسے نور کی طرف راہنمائی کرینگے جس سے تمہارے دل مطمئن ہو جائیں ، بخدا! تم کم عقلی کا بہانہ بناکر جان نہیں چھڑا سکتے کیونکہ دنیاوی امور میں تم صائب الرائے ہو اور انہیں بخوبی سرانجام دے رہے ہو۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے! تم معمولی سی دنیا پر خوش ہو جاتے ہو اور معمولی سے دنیاوی نقصان پر اِنتہائی رنجیدہ ہو جاتے ہو، تمہارے چہرے اور زبانیں دکھ کی مُظہِر ہیں اور تم اسے مصیبت کہتے ہو اور تم دنیا پر گناہوں سے آلودہ زندگی بسر کرتے ہو اور دین کے اکثر احکامات کو نظر اَنداز کردیتے ہو اور اس سے نہ تمہارے چہروں پر شکن آتی ہے اور نہ ہی تمہاری حالت میں کوئی تغیر پیدا ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اللہ تَعَالٰی تم سے بری ہو، تم باہم محبت رکھتے ہو، مگر اللہ تَعَالٰی کے حضور حاضری کو اپنی بداَعمالیوں کی وجہ سے بہت برا سمجھتے ہو، تم خائن بن گئے اور اُمیدوں کے پیچھے دوڑنے لگے اور موت کا انتظار ختم کردیا۔ میں اللہ تَعَالٰی سے دعا مانگتا ہوں :وہ مجھے تم سے علیحدگی بخشے اور مجھے اپنے محبوب کی خدمت میں پہنچا دے۔ اگر تم میں نیک بننے کی تڑپ ہے تو میں تمہیں بہت کچھ بتا چکا، اللہ تَعَالٰی سے نعمتوں کا سوال کرو، بہت آسانی سے پالوگے، میں اپنے اور تمہارے لئے اللہ سے دعا مانگتا ہوں ۔
حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا ایک ناصحانہ ارشاد:
حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے حواریوں سے فرمایا: جس طرح دُنیا دار دُنیا کی چاہت میں معمولی سے دین پر راضی ہیں تم بھی دین کی سلامتی کے لئے معمولی سی دنیا پر راضی ہوجاؤ۔
اسی موضوع پر کسی شاعر نے کہا ہے: ؎
اری رجالا بادنی الدین قد قنعوا وما اراہم رضوا فی العیش بالدون
فاستغن با لدین عن دنیا الملوک کما استغنی الملوک بدنیاھم عن الدین
{1}…میں نے لوگوں کو دیکھا ہے وہ تھوڑے سے دین پر راضی ہوگئے مگر تھوڑی سی دنیا پر راضی نہیں ہوئے۔
{2}…جس طرح دنیا داردنیا کے بدلے دین سے بے نیاز ہوگئے ہیں تو بھی دین کے بدلے دنیا سے بے نیاز ہوجا۔
حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: اے دنیا کو سونے چاندی کے لئے طلب کرنے والے! ترکِ دنیا بہت عمدہ چیز ہے۔