Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
209 - 676
 جائے قرار نہ بناؤ۔
	  حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے کہا گیا :ہمیں ایک ایسی چیز بتلائیے جس کے سبب اللہ تَعَالٰی ہمیں محبوب بنالے، فرمایا: تم دنیا سے عداوت رکھو، اللہ تَعَالٰی تمہیں محبوب رکھے گا۔
	حضرتِ ابوالدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے؛حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے اور دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتے۔(1)
حضرتِ ابوالدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا مسلمانوں سے خطاب:
	حضرتِ ابوالدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا:اے لوگو! جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو آبادی چھوڑ کر ویران ٹیلوں کی طرف نکل جاتے اور اپنے کو ریاضت میں مشغول کرتے، گریہ وزاری کرتے اور ضروری سامان کے علاوہ تمام مال و متاع چھوڑ دیتے، لیکن دنیا تمہارے اعمال کی مالک بن گئی ہے اور دنیا کی امیدوں نے تمہارے دل سے آخرت کی یاد مٹا کر رکھ دی ہے اور تم (اس کے لئے) جاہلوں کی طرح سرگرداں ہو، تم میں سے بعض لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں ،جو اپنی خواہشات میں اندھے بن کر انجام کی فکر نہیں کرتے ، تم سب’’ دینی بھائی‘‘ ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے ہو اور نہ ہی ایک دوسرے کو نصیحت کرتے ہو، تمہارے خبث ِ باطن نے تمہارے راستے جدا کردیئے ہیں ، اگر تم صراطِ مستقیم پر چلتے تو ضرور باہم محبت کرتے، تم دنیاوی امور میں تو باہم مشورے کرتے ہو مگر آخرت کے امور میں مشورہ نہیں کرتے اور تم اس ذات سے محبت نہیں رکھتے جو تمہیں محبوب رکھتا ہے اور تمہیں آخرت کی بھلائی کی طرف لیجانا چاہتا ہے۔
	 یہ سب اس لئے ہے کہ تمہارے دلوں میں ایمان کمزور پڑ چکا ہے، اگر تم آخرت کی بھلائی اور برائی پر یقین رکھتے جیسے دنیاوی اونچ نیچ پر یقین رکھتے ہو تو تم دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتے کیونکہ آخرت تمہارے اعمال کی مالک ہے۔ اگر تم یہ کہو کہ ہم پر دنیا کی محبت غالب ہے تو یہ تمہارا عذرِ ِلنگ ہے کیونکہ تم مقررہ میعاد پر آنے والی آخرت پر اس دنیا کو ترجیح دے رہے ہو اور اپنے جسم کو ان کاموں سے دکھ درد جھیلنے پر مجبور کررہے ہو جنہیں تم کبھی بھی نہیں پاسکتے، تم بڑے ناہنجار 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…المستدرک للحاکم ، کتاب الرقاق،  باب تمثیل آخر للدنیا، ۵/۴۵۷، الحدیث ۷۹۷۵