Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
208 - 676
بے گورو کفن نعشیں :
	حضرت عمار بن سعید رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا ایک ایسی بستی سے گزر ہوا جس کے مکین مختلف اطراف اور راستوں پر مردہ پڑے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے حواریوں سے فرمایا: یہ لوگ اللہ تَعَالٰی کی ناراضگی کا شکار ہیں ورنہ انہیں ضرور دفن کیا جاتا۔ حواریوں نے عرض کی: ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ان کے حالات کا پتہ چل جائے، حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے رب تعالیٰ سے دعا مانگی تو ربِّ ذوالجلال نے فرمایا: جب رات آجائے تو ان سے پوچھنا، یہ اپنی ہلاکت کا سبب بتائیں گے۔ جب رات ہوئی تو حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے کہا: اے بستی والو! ایک آواز آئی: لَـبَّـیْک یَا رُوْحَ اللہ! آپ نے پوچھا: تمہاری یہ حالت کیوں ہے اور اس عذاب کے نزول کا باعث کیا ہے؟ جو اب آیا: ہم نے عافیت کی زندگی گزاری اور جہنم کے مستحق قرار پائے، اس لئے کہ ہم دنیا سے محبت رکھتے تھے اور گنہگاروں کی پیروی کیا کرتے تھے۔آپ نے پوچھا: تمہیں دنیا سے کیسی محبت تھی؟ جواب آیا: جیسے ماں کو بچہ سے محبت ہوتی ہے، جب ہمارے پاس دنیا آجاتی ہم نہایت مسرور ہوتے اور جب دنیا چلی جاتی تو ہم نہایت غمگین ہوجاتے۔ آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ صرف تو ہی جواب دے رہا ہے اور تیرے باقی ساتھی خاموش ہیں ؟ جواب ملا: طاقتور پُرہیبت فرشتوں نے ان کو آگ کی لگا میں ڈالی ہوئی ہیں ۔ آپ نے فرمایا: پھر تو کیسے جواب دے رہا ہے؟ جواب ملا: میں ان میں رہتا ضرور تھا مگر ان جیسی بداَعمالیاں نہیں کرتا تھا، جب عذابِ الٰہی آیا تو میں بھی اس کی لپیٹ میں آگیا، اب میں جہنم کے کنارے پر لٹکا ہوا ہوں ، کیا خبر اس سے نجات پاتا ہوں یا اس میں گر جاتا ہوں ۔ حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے حواریوں کو فرمایا: نمک سے جَو کی روٹی کھانا، پھٹا پرانا کپڑا پہننا اور کوڑے کے ڈھیر پر سوجانا، دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لئے بہت عمدہ ہے۔
	  حضرتِ اَنَس رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی عضبا نامی اونٹنی تھی جو تیز رفتاری میں سب سے عمدہ تھی، ایک دفعہ ایک بدوی کی اونٹنی اس سے آگے نکل گئی جس کی وجہ سے صحابہ کو بہت افسوس ہوا، آپ نے فرمایا: یہ قانونِ قدرت ہے کہ ہر کمال کو زوال نصیب ہوتا ہے۔ (1)
	حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: ’’کون ہے جو سمندر کی لہروں پر عمارت بنائے !یہ دنیا اسی طرح ہے تم اسے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، ۴/۲۴۸، الحدیث ۶۵۰۱