سے جدا کر دے گی اور جس کے بارے میں ان کو پہلے سے ہی بتادیا گیا تھا، ہلاک ہو وہ شخص جس کی تمام ترکوششیں حصولِ دنیا کے لئے ہیں ، جس کے اعمال گناہوں پرمشتمل ہیں وہ کل قیامت کے دن اپنے گناہوں سے کیسے رہائی پائے گا؟
اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی کی: اے موسیٰ! تمہارا ظالموں کے گھر سے کیا تعلق؟ تم اپنی توجہ اور تعلق اس دنیا سے جو بہت برا گھر ہے، ہٹالو، یہ صرف اسی کے لئے اچھی ہے جواس میں رہ کر اپنے خالق کوراضی کرلیتا ہے، اے موسیٰ! میں ہر مظلوم کو ظالم سے اس کا حق دلاؤنگا۔
سرورِ کونین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا انصار سے خطاب:
مروی ہے: حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے حضرتِ ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو بحرین بھیجا، وہ وہاں سے مال و دولت لے کر آئے، جب انصار کو ان کی آمد کی اطلاع ملی تو وہ سب صبح کی نماز میں حاضر ہوئے، نماز سے فارغ ہو کر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے انہیں دیکھا توحضور نے مسکراکر فرمایا: شاید تمہیں ابوعبیدہ کے مال لے کر آنے کی خبر مل گئی ہے۔ انہوں نے عرض کی :جی ہاں ! آپ نے فرمایا:’’ تمہیں مبارک ہو! ربِّ ذوالجلال کی قسم !مجھے تمہارے بارے میں فقر و فاقہ کا خوف نہیں ہے بلکہ میں اس وقت سے ڈرتا ہوں جب تم پر پہلی اُمتوں کی طرح دنیا فراخ ہوجائے گی اور تم اس میں پہلی امتوں کی طرح مشغول ہوکر ہلاک ہوجاؤ گے۔ (1)
حضرتِ ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ عَنْہسے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ میں اکثر اس بات کا اندیشہ کرتا ہوں جب اللہ تَعَالٰی تم پر یہ دنیا اپنی تمام فتنہ سامانیوں کے ساتھ فراخ کردے گا۔‘‘(2)
فرمانِ نبوی ہے: اپنے دلوں کو دنیا کی یاد میں نہ لگاؤ۔(3) آپ نے دنیا کی یاد سے منع کردیا ہے چہ جائیکہ انسان اپنی تمام تر توجہ اسی پر مرکوز کردے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الجزیۃ والموادعۃ ، باب الجزیۃ والموادعۃ۔۔۔الخ ۲/۳۶۳، الحدیث ۳۱۵۸
2…بخاری، کتاب الرقاق، باب مایحذرمن۔۔۔الخ،۴/۲۲۶،الحدیث ۶۴۲۷
3…شعب الایمان، الحادی والسبعون۔۔۔الخ، باب فی الزھد۔۔۔الخ ۷/۳۶۱، الحدیث ۱۰۵۸۴