Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
205 - 676
کی گرانی ختم کرنا چاہتا ہوں ، فرشتہ بولا :اس گرانی کو کہاں ڈالو گے؟ جنت کے فرش پر، تختوں پر، درختوں کے سایہ میں ، جنت کی نہروں کے کناروں پر؟ جنت میں ان چیزوں کی کوئی جگہ نہیں ہے، آپ دنیا میں چلے جائیں ۔ 
	فرمانِ نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ہے کہ قیامت کے دن ایسے لوگ آئیں گے جن کے اعمالِ حسنہ تہامہ کے پہاڑوں کے برابر ہوں گے، مگر انہیں جہنم کی طرف لیجایا جائے گا۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے پوچھا: وہ نماز روزہ ادا کرنے والے ہوں گے؟ فرمایا: ہاں ! وہ روزہ دار اور رات کا ایک حصہ عبادت میں گزارنے والے ہوں گے مگر وہ دنیا کے دلدادہ ہوں گے۔(1)
	فرمانِ نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ہے: بندئہ مومن دو خوفوں کے درمیان رہتا ہے، اَعمالِ گزشتہ پر فکر مند رہتا ہے اور آنے والے وقت کے لئے پریشان رہتا ہے کہ اللہ تَعَالٰی کی قضاء وقدر میں میرے لئے کیا مرقوم ہے۔بندہ اپنی زندگی سے اپنے لئے بھلائی پیدا کرے، اپنی دنیا سے آخرت کو سنوارے، حیات سے موت کو اور جوانی سے بڑھاپے کو آراستہ کرے کیونکہ دنیا تمہارے لئے اور تم آخرت کے لئے بنائے گئے ہو، ربِّ ذوالجلال کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، موت کے بعد بندہ کے لئے اور کوئی تکلیف دہ چیز نہیں ہے اور دنیا کے بعد بہشت یا دوزخ کے سوا کوئی اور ٹھکانا نہیں ہے۔(2)
	حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا فرمان ہے کہ جس طرح ایک برتن میں آگ اور پانی جمع نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک دل میں دنیا اور آخرت کی محبت جمع نہیں ہوسکتی۔
	  مروی ہے کہ حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے نوح عَلَیْہِ السَّلَام سے پوچھا کہ آپ نے تو بہت طویل عمر پائی ہے، یہ فرمائیں کہ آپ نے دنیا کو کیسا پایا؟ آپ نے فرمایا:’’دنیا ایک سرائے ہے جس کے دو دروازے ہیں ، ایک دروازے سے داخل ہوا اور دوسرے دروازے سے میں نکل گیا۔‘‘
	  حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے کہا گیا کہ آپ اپنی رہائش کے لئے گھر کیوں نہیں بناتے؟ آپ نے فرمایا: گزشتہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…فردوس الاخبار، ۵/۴۹۸ ، الحدیث۸۸۷۵ و الزہد وصفت الزاہدین لابن عربی،۱/۶۹، الحدیث ۱۳۱وحلیۃ الاولیاء، سالم مولی ابی حذیفۃ ، ۱/۲۳۳،الحدیث۵۷۵
2…شعب الایمان ، الحادی والسبعون۔۔۔الخ،  باب فی الزھد۔۔۔الخ ، ۷/۳۶۰، الحدیث ۱۰۵۸۱