Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
204 - 676
اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بہت روئے۔(1)
	روایت ہے کہ جب آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو زمین پر اتارا گیا تو اللہ تَعَالٰی نے فرمایا: تباہی کے لئے عمارتیں بناؤ اور موت کے لئے بچے پیدا کرو۔
	حضرتِ داؤد بن ہلال رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے صحیفوں میں مرقوم ہے کہ اے دنیا! تو ’’نیکوکاروں ‘‘ کی نظر میں اپنی تمام ترزیب و زینت کے باوجود بے وقار ہے، میں نے ان کے دلوں میں تیری عداوت اور تجھ سے بے توجہی رکھ دی ہے، میں نے تجھ جیسی بے وقار کوئی اور چیز نہیں پیدا کی، تیری ہر ادا جھوٹی اور فانی ہے، میں نے تیری پیدائش کے وقت فیصلہ فرمادیا تھا کہ نہ تو کسی کے پاس ہمیشہ رہے گی اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہے گا، اگرچہ تجھے پانے والا کتنا ہی بخل کرتا رہے، نیکوکاروں کے لئے میری بشارت ہے، جن کے دل میری رضا پر راضی ہیں اور جن کے دل صدق و استقامت کا گہوارہ ہیں ، ان کے لئے خوشخبری ہے کہ جب وہ قبروں سے گروہ در گروہ اٹھیں گے تو میں انہیں یہ جزادوں گا کہ ان کے آگے نور ہوگا اور فرشتے انہیں گھیرے ہوئے ان کی تمناؤں کے مرکز یعنی بہشت میں پہنچائیں گے۔
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان ہے: دنیا   زمین و آسمان کے درمیان معلق ہے۔ اسے اللہ تَعَالٰی نے جب سے پیدا فرمایا ہے کبھی نظر رحمت سے نہیں دیکھا، قیامت کے دن دنیا بارگاہِ خداوندی میں عرض کرے گی: مجھے اپنے دوستوں کے مقدر میں لکھ دے۔ رب فرمائے گا :میں دنیا میں اس ملاپ کو ناپسند کرتا تھا اور آج بھی اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ (2)
حضرتِ آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی حیرانی و سرگردانی:
	مروی ہے کہ جب حضرتِ آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے ممنوعہ شجر سے کھالیا تو انہیں پیٹ میں گرانی محسوس ہوئی حالانکہ جنت کی نعمتوں میں یہ بات نہیں ہے۔ حضرتِ آدم عَلَیْہِ السَّلَام قضائے حاجت کے لئے چاروں طرف حیران پھر رہے تھے کہ اللہ تَعَالٰی کے حکم سے فرشتہ حاضر ہو ااور کہنے لگا: آدم! حیران کیوں پھر رہے ہو؟ آپ نے فرمایا: میں اپنے پیٹ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…المستطرف لشہاب الدین،الباب الثالث والثمانون فی ذکرالدنیا واحوالھا۔۔۔الخ ،۲/۴۹۴والبحر المدید لابن عجیبۃ ، ۴/۲۳۷
2…قوت القلوب ،۱/۴۰۷ و طبقات الشافیۃ الکبری للسبکی،۶/۳۴۵ مختصرا