کررہے تھے، انسان اور جنات آپ کے دائیں بائیں بیٹھے تھے، بنی اسرائیل کے ایک عابد نے دیکھ کر کہا: اے سلیمان! بخدا! اللہ نے آپ کو ملکِ عظیم دیا ہے۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا کہ بندئہ مومن کے نامۂ اعمال میں درج صرف ایک تسبیح میری تمام سلطنت سے بہتر ہے کیونکہ یہ سب فانی ہے مگر تسبیح باقی رہنے والی ہے۔
فرمانِ نبوی ہے: تمہیں مال کی کثرت نے مشغول رکھا ہے، انسان کہتا ہے میرا مال میرا مال، مگر اپنے مال میں ، جوتونے کھایا وہ ختم ہوگیا، جو پہنا وہ پرانا ہوگیا، جو راہِ خدا میں خرچ کیا وہی باقی رہے گا۔(1)
فرمانِ نبوی ہے:’’ دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہ ہو، اس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہ ہو، بیوقوف ہی اسے جمع کرتا ہے، بے علم ہی اس کے لئے جھگڑتا ہے ناسمجھ ہی اس کے لئے دشمنی اور حسد کرتا ہے اور بے یقین ہی اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔‘‘(2)
فرمانِ نبوی ہے: جس کی سب سے بڑی تمنا حصولِ دنیا ہے، اللہ تَعَالٰی کے یہاں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے، اللہ تَعَالٰی ایسے کے دل پر چار چیزوں کو مسلط کردیتا ہے، دائمی غم، دائمی مشغولیت، دائمی فقر اور کبھی نہ پوری ہونے والی آرزوئیں۔(3)
حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: مجھ سے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: تجھے دنیا کی حقیقت دکھلاؤں ؟ میں نے عرض کی: ہاں یا رسول اللہ! آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے مدینہ کی ایک وادی میں لے گئے جہاں کوڑا پڑا تھا اور اس میں گندگی، چیتھڑے اور انسان کے سرکی بوسیدہ ہڈیاں تھیں ۔ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ اے ابوہریرہ! یہ سر بھی تمہارے سروں کی طرح حریص تھے اور ان میں تمہاری طرح بہت آرزوئیں تھی مگر آج یہ خالی ہڈیاں بن چکی ہیں جن پرکھال بھی نہیں رہی اور عنقریب یہ مٹی ہوجائیں گے، یہ گندگی ان کے کھانوں کے رنگ ہیں جنہیں انہوں نے کما کما کر کھایا، آج لوگ ان سے منہ پھیر کرگزرتے ہیں ، یہ پرانے چیتھڑے جو کبھی ان کے ملبوسات تھے، آج ہوا انہیں اڑائے پھرتی ہے اور یہ ان کی سواریوں کی ہڈیاں ہیں جن پر سوار ہو کر وہ شہر شہرگھوما کرتے تھے، جو اس دردناک انجام پر رونا پسند کرتا ہو اسے رونا چاہئے۔‘‘ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں : پھرمیں اور حضور صَلَّی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الزھد والرقاق، ص ۱۵۸۲، الحدیث۳۔ (۲۹۵۸) والورع لابن حنبل، باب ذکر النعیم ، ص۱۸۸
2…شعب الایمان ، الحادی والسبعون۔۔۔الخ ، باب فی الزھد۔۔۔الخ ۷/۳۷۵، الحدیث ۱۰۶۳۸
3…کنز العمال،کتاب الاخلاق، باب الزہد، ۲/۹۲ الجزء الثالث، الحدیث۶۲۶۹