فرمانِ نبوی ہے: دنیا سبز (خوش آئند) اور شیریں ہے، اللہ تَعَالٰی نے تمہیں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے اور وہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ بنی اسرائیل پر جب دنیا فراخ کردی گئی تو انہوں نے اپنی تمام تر کوششیں زیورات، کپڑوں ، عورتوں اور عطریات کے لئے وقف کردی تھیں (اور ان کا انجام تم نے دیکھ لیا)۔(1)
حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا فرمان ہے کہ دنیا کو معبود بنا کر اس کے بندے نہ بن جاؤ، اپنا خزانہ اس ذات کے یہاں جمع کرو جو کسی کی کمائی کو ضائع نہیں کرتا، دنیاوی خزانوں کے لئے تو خوفِ ہلاکت ہوتا ہے مگر جس کے خزانے خدا کے یہاں جمع ہوں وہ کبھی تباہ نہیں ہوں گے۔
آپ نے مزید فرمایا: اے میرے حواریو! میں نے دنیا کو اوندھے منہ ڈالدیا ہے تم میرے بعدکہیں اسے گلے نہ لگا لینا، دنیا کی سب سے بڑی بُرائی یہ ہے کہ اس میں آدمی اللہ کا نافرمان بن جاتا ہے اور اسے چھوڑے بغیر آخرت کی بھلائی ناممکن ہے دنیا میں دلچسپی نہ لو، اسے عبرت کی نگاہ سے دیکھو اور باخبر رہو، دنیا کی محبت ہر برائی کی اصل ہے اور ایک لمحہ کی خواہشِ نفسانی اپنے پیچھے طویل پشیمانی چھوڑ جاتی ہے اور فرمایا کہ دنیا تمہارے لئے سواری بنائی گئی اور تم اس کی پشت پر سوار ہوگئے تو اب بادشاہ اور عورتیں تمہیں اس سے نہ اتاردیں ، رہا بادشاہوں کا معاملہ تو ان سے دنیا کی وجہ سے مت جھگڑو، وہ تمہاری دنیا اور تمہاری پسماندہ چیزوں کو تمہیں واپس نہ کریں گے، رہی عورتیں تو ان کے صوم و صلوٰۃ سے ہوشیار رہو۔
مزید فرمایا: دنیا طالب بھی ہے اور مطلوب بھی ہے، جو خوشنودیٔ خدا کا طالب ہوتا ہے دنیا اس کی طالب رہتی ہے اور اسے رزق بہم پہنچاتی ہے اور جو دنیا کا طالب ہوتا ہے اسے آخرت طلب کرتی ہے اور موت اسے گدی سے پکڑ کر لے جاتی ہے۔
حضرتِ موسیٰ بن یسار رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے:حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی کو اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسندیہی دنیا ہے، اللہ نے اسے جب سے پیدا فرمایا ہے کبھی نظرِ رحمت سے نہیں دیکھا۔(2)
روایت ہے کہ حضرتِ سلیمان بن داؤد عَلَیْہِمَا السَّلَام ایک مرتبہ اپنے تخت پر کہیں جارہے تھے، پرندے آپ پر سایہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعۃ ابن ابی الدنیا،کتاب ذم الدنیا ،۵/۲۸، الحدیث۲۰
2…شعب الایمان ، الحادی والسبعون۔۔۔الخ، باب فی الزھد۔۔۔الخ، ۷/۳۳۸،الحدیث ۱۰۵۰۰