حضرتِ ابوبکر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی اشکباری:
حضرتِ زید بن ارقم رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ ہم حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے مکان پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے پانی منگوایا تو پانی اور شہد حاضر کیا گیا، آپ جب اسے منہ کے قریب لے گئے تو بے اختیار رونے لگے، یہاں تک کہ پاس بیٹھے ہوئے سب صحابہ کرام بھی رونے لگے، کچھ دیر بعد آپ نے پھر پینے کا ارادہ فرمایا مگر شہد اور پانی دیکھ کر دوبارہ رونے لگ گئے یہاں تک کہ صحابہ کرام نے خیال کیا کہ شاید ہم اس گریہ کی وجہ دریافت نہیں کرسکیں گے، جب آپ نے اپنے آنسو صاف کئے تو صحابہ کرام نے عرض کیا: اے خلیفۃالرسول! آپ کے رونے کا باعث کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ایک مرتبہ مجھے رسولِ خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی ہمراہی کا شرف نصیب ہوا، آپ اپنے جسمِ مبارک سے کسی نظر نہ آنے والی چیز کو رفع فرمارہے تھے، میں نے عرض کیا: حضور! آپ کس چیز کو ہٹارہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: میرے پاس ابھی دنیا آئی تھی، میں نے اسے کہا: مجھ سے دور رہو! وہ لوٹ گئی ہے اور یہ کہہ گئی ہے کہ آپ نے مجھ سے کنارہ کشی فرمالی ہے مگر بعد میں آنے والے ایسا نہیں کرسکیں گے۔ (1)
فرمانِ نبوی ہے کہ ایسے انسان پر انتہائی تعجب ہے جو بہشت پر ایمان رکھتے ہوئے دنیا کے حصول میں سرگرم ہے۔(2)
دنیا کی ایک تمثیل:
مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ایک نزیلہ (کوڑے کے ڈھیر) کے قریب کھڑے ہوئے اور فرمایا: دنیا کی طرف آیئے، آپ نے ایک پرانا چیتھڑا اور بوسیدہ ہڈی دست مبارک میں لے کر فرمایا: یہ دنیا ہے۔(3)
اس تمثیل سے اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ دنیا کی زینت اس چیتھڑے کی طرح پرانی ہوجائے گی اور چلتے پھرتے انسان کی ہڈیاں اس ہڈی کی طرح بوسیدہ ہوجائیں گی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… آئی ہے بے حیا مرا ایمان لوٹنے دنیا کھڑی ہے دولت دنیا لئے ہوئے
… شعب الایمان، الحادی والسبعون۔۔۔الخ ، باب فی الزھد۔۔۔الخ ،۷/۳۴۳، الحدیث ۱۰۵۱۸
2…شعب الایمان، الحادی والسبعون۔۔۔الخ ، باب فی الزھد۔۔۔الخ ، ۷/ ۳۴۸، الحدیث ۱۰۵۳۹
3…شعب الایمان، الحادی والسبعون۔۔۔الخ ، باب فی الزھد۔۔۔الخ ،۷/ ۳۲۷، الحدیث ۱۰۴۷۱