Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
199 - 676
شخص جو مجھے ملاوہ ایک خچر سوار تھا، میں نے وہ رقعہ اس کو دے دیا، اس نے پڑھا اور رونے لگا ،پھر پوچھا:اس رقعہ کا کاتب کہاں ہے؟ میں نے کہا: فلاں ویران مسجد میں بیٹھا ہے۔ یہ سنتے ہی اس نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں چھ سو دینار تھے، بعد میں مجھے ایک اور شخص ملا، میں نے اس سے خچر سوار کے بارے میں پوچھا: تو اس نے کہا کہ وہ نصرانی تھا، میں نے واپس آکر حضرت ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کو سارا واقعہ سنایا۔ آپ نے فرمایا: ذرا ٹھہرو وہ ابھی آ جائے گا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نصرانی آگیا اور حضرت ابراہیم کے سر کو چومنے لگا اور مسلمان ہوگیا۔
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہکی ایک قوت:
	حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے حاملین عرش (فرشتوں ) کو پیدا فرمایا اور انہیں عرش کو اٹھانے کا حکم دیا مگر وہ نہ اٹھا س کے، اللہ تَعَالٰی نے ہر فرشتہ کے ساتھ سات آسمانوں کے فرشتوں کے برابر فرشتے پیدا کئے، پھر انہیں عرش کو اٹھانے کا حکم دیا مگر وہ نہ اٹھاس کے، پھر اللہ تَعَالٰی نے ہر فرشتہ کے ساتھ ساتوں آسمانوں اور زمینوں کے فرشتوں کے برابر فرشتے پیدا فرمائے اور انہیں عرش اٹھانے کا حکم دیا مگر وہ پھر بھی نہ اٹھاس کے، تب اللہ تَعَالٰی نے فرمایا: تم لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ کہو، جب انہوں نے یہ کہا تو عرشِ الٰہی کو اٹھا لیا مگر ان کے قدم ساتویں زمین میں ہوا پر جم گئے ۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ ہمارے قدم ہوا پر ہیں اور نیچے کوئی ٹھوس چیز موجود نہیں ہے تو اُنہوں نے عرشِ الٰہی کو مضبوطی سے تھام لیا اور لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہ پڑھنے میں محو ہوگئے تاکہ وہ انتہائی پستیوں پر گرنے سے محفوظ رہیں اب وہ عرش کو اُٹھائے ہوئے ہیں اور عرشِ الٰہی انہیں تھامے ہوئے ہے بلکہ ان تمام کو قدرتِ الٰہی سنبھالے ہوئے ہے۔
	روایت ہے کہ جو شخص صبح و شام سات مرتبہ: ’’حَسْبِیَ اللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّاھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَرَبُّ العَرْشِ الْعَظِیْم‘‘ پڑھتا ہے، اللہ تَعَالٰی اس کے تمام عزائم کو پورا کردیتا ہے۔ (1)
	ایک روایت میں ہے کہ اس کے دنیا و آخرت کے تمام کام پورے ہوجاتے ہیں ۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ابوداود، کتاب الادب ، باب ما یقول اذا أصبح ، ۴/۴۱۶، الحدیث۵۰۸۱