Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
198 - 676
 بنائے جو حقیقت میں روزی رساں ہے، سائل جو کشکول لیکر گداگری کرتا رہتا ہے وہ کشکول کو نہیں بلکہ ہمیشہ دینے والے سخی کی طرف متوجہ رہتا ہے۔
	فرمانِ نبوی ہے: ’’جو شخص اپنے آپ کو سب سے زیادہ غنی بنانا چاہتا ہے وہ اپنے مال سے زیادہ انعامِ خداوندی پر نظر رکھے۔‘‘(1)
توکلِ حقیقی کی ایک مثال:
	حضرت حذیفہ مرعشی رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ نے کئی سال تک حضرتِ ابراہیم بن اَدہم رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کی خدمت کی تھی۔ ایک مرتبہ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ تم حضرت ابراہیم رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کی صحبت کا کوئی عجیب واقعہ سناؤ! انہوں نے کہا کہ ایک بار ہم مکہ معظمہ کی طرف جارہے تھے، راستہ میں ہمارا زادِ راہ ختم ہوگیا ہم کوفہ کی ایک ویران مسجد میں اقامت گزیں ہوئے، حضرت ابراہیم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: تم بھوک سے نڈھال نظر آتے ہو، میں نے کہا: ہاں ،مجھے شدت کی بھوک لگ رہی ہے۔آپ نے مجھ سے قلم دوات منگوائی اور کاغذ پر ’’بسماللہ‘‘ کے بعد لکھا ہر حالت میں اے ربِّ ذوالجلال! تو ہی ہمارا مقصود اور ہر کام میں تو ہی ملجا ہے، پھر یہ اشعار لکھے:   ؎
انا   حامد   انا   شاکر   انا  ذاکر		انا   جائع   انا  ضائع   انا   عاری
ھی  ستۃ  و انا  و الضمین  لنصفہا		فکن   الضمین   لنصفہا   یا باری
مدحی لغیرک لھب نار حضنتھا		فاجر  عبیدک  من  دخول  النار
{1}…میں تیری حمد کرنیوالا، شکر کرنیوالا اور ذکر کرنیوالا ہوں ، میں بھوکا، خستہ حال اور برہنہ ہوں ۔ 
{2}…اے اللہ! تین باتوں کا میں ضامن ہوں اور بقیہ تین کی ضمانت تو قبول فرمالے۔
{3}… تیرے سوا کسی اور کی ثنا میرے لئے آگ سے کم نہیں ہے، اپنے بندے کو اس آگ سے بچالے۔
اور مجھ سے فرمایا: دل میں کسی غیر کا خیال نہ لانا ، جو آدمی تمہیں سب سے پہلے نظر آئے یہ رقعہ دے دینا۔ سب سے پہلا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…مستدرک للحاکم،کتاب الادب،۵/۳۸۴، الحدیث ۷۷۷۹ و مسند الشہاب للقضاعی، ۱/۲۳۴، الحدیث ۳۶۸ وجامع العلوم والحکم لابن رجب ، تحت الحدیث الحادی والثلاثون ص۳۶۶ و تاریخ مدینہ دمشق ، ۵۵/۱۳۳