کروں ؟ آپ نے فرمایا: اونٹ کا پاؤں باندھ دے اور توکل کر اللہ پر۔(1)
فرمانِ نبوی ہے کہ اگر تم، اللہ پر توکل کرنے کی حقیقت کو پالیتے تو اللہ تَعَالٰی تمہیں پرندوں کی طرح رزق دیتا جو صبح بھو کے اٹھتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے ہوتے ہیں ۔ (2)
حضرتِ ابراہیم بن ادہم اور حضرتِ شقیق بلخی کے درمیان سوال وجواب:
حضرتِ ابراہیم بن ادہم اور حضرتِ شقیق بلخی رَحِمَہُمَا اللہُ تَعَالٰی کی مکہ معظمہ میں ملاقات ہوئی، ابراہیم نے پوچھا: اے شقیق بلخی! تم نے یہ بلند مرتبہ کیسے پایا؟ حضرت شقیق نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ میرا ایک بیابان سے گزر ہوا، وہاں میں نے ایک ایسا پرندہ پڑا دیکھا جس کے دونوں بازو ٹوٹ گئے تھے۔ میرے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ دیکھوں تو سہی اسے کیسے رزق ملتا ہے، میں وہاں بیٹھ گیا، کچھ دیر بعد ایک پرندہ آیا جس کی چونچ میں ایک ٹڈی تھی اور اس نے وہ پرندہ کے منہ میں ڈال دی۔ میں نے دل میں سوچا کہ وہ رازقِ کائنات ایک پرندے کے ذریعے دوسرے پرندے کا رزق پہنچا دیتا ہے، میرا رزق بھی مجھے ہر حالت میں پہنچا سکتا ہے لہٰذا میں نے سب کاروبار چھوڑ دیئے اور عبادت میں مصروف ہوگیا۔
حضرت ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ نے کہا: اے شقیق! تم نے مجبور و معذور پرندہ بننا پسند کیا اور تندرست پرندہ بننا پسند نہ کیا کہ تم کو مقام بلند نصیب ہوتا، کیاتم نے یہ فرمانِ نبوی نہیں سنا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے،(3)مومن تو ہمیشہ بلندیٔ درجات کی تمنا کرتا ہے تا آنکہ وہ ابرار کی صف میں جگہ پاتا ہے۔
حضرت شقیق رَحْمَۃُ اللہ ِعَلَیْہ نے یہ سنتے ہی حضرت ابراہیم رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کے ہاتھوں کو چوما اور کہا: بیشک آپ میرے اُستاد ہیں ۔
توکل حقیقی کیا ہے؟
جب انسان رزق کے حصول کے اَسباب مہیا کرلے تو اَسباب کی بجائے اپنا نصب العین اس خالقِ کائنات کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ، باب ۶۰، ۴/۲۳۲، الحدیث ۲۵۲۵
2…ترمذی، کتاب الزھد، باب فی التوکل علی اللہ ، ۴/۱۵۴،الحدیث ۲۳۵۱
3…بخاری ،کتاب الزکاۃ، باب لاصدقۃ الا۔۔۔الخ، ۱/۴۸۲، الحدیث ۱۴۲۷