Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
196 - 676
 رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو اختلاف ہے۔
عرشِ الٰہی کی ساخت:
	عرشِ الٰہی کی بناوٹ کے متعلق مختلف روایتیں ہیں بعض کہتے ہیں : سرخ یاقوت کا ہے یا سبز موتی کا ہے بعض کی رائے ہے کہ سفید موتی سے بنایا گیا ہے، اللہ تَعَالٰی ہی اس کی حقیقت کو بہتر جانتا ہے۔
	  فلکیات کے ماہرین اسے نواں آسمان، فلکِ اعلیٰ، فلکُ الا َفلاک اور فلکِ اَطلس کہتے ہیں۔ اس میں کوئی ستارہ وغیرہ نہیں ہے، قدیم ہیئت دانوں کے بقول تمام ستارے آٹھویں آسمان میں ہیں جس کو وہ فلک البروج اور اہلِ شرع کرسی کہتے ہیں۔ 
	عرشِ الٰہی مخلوقات کی چھت ہے، کوئی چیز اس کے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکتی، وہ بندوں کے علم و ادراک اور مطلوب کی انتہا ہے، اللہ تَعَالٰی نے اسے ’’عظیم‘‘ قرار دیا ہے چنانچہ 
	فرمانِ الٰہی ہے:
فَاِنۡ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللہُ  ٭۫ۖ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاہُوَ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیۡمِ ﴿۱۲۹﴾٪ (1)
پس اگر وہ پھر جائیں تو کہئے کہ مجھے اللہ  کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم  کا نامِ نامی توریت میں متوکل تھا اور کیوں نہ ہوتا، آپ سے بڑھ کرمعرفت خداوندی کا شناسا اور کون ہے؟ آپ موحدین کے سردار اور عارفینِ کاملین کے رہنما ہیں ، توکل کی حقیقت آپ پر روز روشن کی طرح عیاں تھی۔
توکل کی حقیقت :
	توکل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسباب سے قطع نظر کرلیا جائے جیسا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے بلکہ توکل اسباب کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے ایک بدوی نے پوچھا: میں اونٹ کا پیر باندھ کر، یا کھلا چھوڑ کر توکل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…ترجمۂکنزالایمان: پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرمادو کہ مجھے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے۔ (پ۱۱، التوبہ : ۱۲۹)