Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
195 - 676
باب 30
عرش،کرسی،فرشتگانِ مقرب،رزق و توکل
	اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے:
وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ  (1)		اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔
	کرسی سے مراد علمِ الٰہی ہے یا مُلکِ خداوندی یا پھر مشہور آسمان کا نام ہے۔
	حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ کرسی ایک موتی ہے جس کی لمبائی اللہ تَعَالٰی کے سوا کوئی نہیں جانتا، حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین کرسی کے سامنے ایسے ہیں جیسے وسیع صحرا میں ایک حلقہ پڑا ہو۔ (2)
	مزید فرمایا کہ آسمان کرسی میں ہیں اور کرسی عرشِ الٰہی کے سامنے ہے۔(3)
	  حضرتِ عکرمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے، سورج کرسی کے نور کا ستّرواں حصہ ہے اور عرشِ الٰہی حجاباتِ الٰہی کے نور کا سترواں حصہ ہے۔(4)
	مروی ہے کہ عرش اور کرسی کے اٹھانے والے فرشتوں کے مابین ستر ہزار نور کے اور ستر ہزار ظلمت کے پردے حائل ہیں ، ہر پردہ پانچ سو سال کا سفر ہے، اگر یہ پردے نہ ہوتے تو حاملین کرسی حاملین عرش کے نور سے جل جاتے۔(5)  
	 عرش ایک نورانی شے ہے جو کرسی سے اوپر ہے اور ایک علیحدہ وجود رکھتا ہے مگر اس قول سے حضرت حسن بصری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…ترجمۂکنزالایمان: اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین ۔(پ۳،البقرۃ:۲۵۵)
2…نظم الدرر فی تناسب ا لآیات والسور لبرھان الدین ،۶/۵۱ و البدایۃ والنہایۃ  لابن کثیر ۱/۳۹ و تفسیر  روح البیان ، البقرۃ تحت الآیۃ:۲۵۵ ، ۱/۴۰۴
3…الاسماء والصفات للبیھقی، باب ما جاء فی العرش والکرسی، ص۳۷۵ والبدایۃ والنہایۃ ، ۱/۳۹ 
4…الدر المنثور ، تحت الآیۃ:۲۰، ۸/۳۵۰ و  الکتاب العظمۃ  للاصبہانی ، ذکر عرش الرب تبارک وتعالی وکرسیہ۔۔۔الخ ، ص۹۷، الحدیث ۲۵۲
5…تاریخ مدینہ دمشق ،۷۱/۳۴۲،۳۴۴ و الکتاب العظمۃ للاصبہانی ، ذکر حملۃ العرش۔۔۔الخ ، ص۱۷۲، الحدیث۴۸۵