Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
193 - 676
 کا اَدنیٰ کرشمہ ہے، پھر اِرشادِ نبوی کے مطابق اللہ تَعَالٰی نے پانی کی طرف نظر رحمت کی تو وہ جم گیا۔(1)
آسمانوں کے نام اور ان کے رنگ:
	زمین اور آسمانِ دنیا کا اور ہر آسمانِ دنیا سے دوسرے آسمان کا بعد اور مسافت پانچ سو سال کے سفر کی دوری کے برابر ہے اور اسی طرح ہر آسمان کا اپنا اپنا حجم ہے، کہتے ہیں کہ پہلا آسمان دودھ سے بھی زیادہ سفید ہے مگر کوہ قاف کی سبزی کی وجہ سے یہ ہرا نظر آتا ہے، اس آسمان کا نام رقیعہ ہے۔
	٭…دوسرے آسمان کا نام فید وم یا ماعون ہے اور وہ ایسے لوہے کا ہے جس سے روشنی کی شعاعیں پھوٹی پڑتی ہیں ۔ 
	٭…تیسرے آسمان کا نام ملکوت یا ہاریون ہے اور وہ تانبے کا ہے۔
	٭…چوتھے آسمان کا نام زَاہرہ ہے اور وہ آنکھوں میں خیرگی پیدا کرنے والی سفید چاندی سے بنا ہے۔
	٭…پانچویں آسمان کا نام مزینہ یا مسہرہ ہے اور وہ سرخ سونے کا ہے۔
	٭…چھٹے آسمان کا نام خالصہ ہے اور وہ چمکدار موتیوں سے بنایا گیا ہے۔
	٭…ساتویں آسمان کا نام لابیہ یا دامعہ ہے، وہ سرخ یاقوت کا ہے اور اسی میں بیت المعمور ہے۔
	بیت المعمور کے چار ستون ہیں : ایک سرخ یاقوت کا ، دوسرا سبز زبرجد کا تیسرا سفید چاندی کا اور چوتھا سرخ سونے کا ہے۔ بیت المعمور کی عمارت سرخ عقیق کی ہے ہر روز وہاں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور ایک مرتبہ داخل ہوجاتے ہیں پھر قیامت تک انہیں دوبارہ داخلے کا موقع نہیں ملے گا۔
	  قولِ معتبریہ ہے کہ زمین آسمان سے افضل ہے کیونکہ یہ انبیاء کا مولد و مدفن ہے اور زمین کے سب طبقات میں بہتر اوپر والا طبق ہے جس پر خلقِ خدا آباد اور نفع اندوز ہوتی ہے۔
سات ستارے اور ہر ستارہ کا آسمان:
	  حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ آسمانوں میں سب سے زیادہ افضل کرسی ہے جس کی چھت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…تفسیر روح البیان ، الانبیاء تحت الآیۃ:۳۰ ، ۵/۴۷۱