باب29
آسمانوں کا ذکر اور دوسرے مباحث
روایت ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے سب سے پہلے جوہر کو پیدا کیا، جب اس پر ہیبت کی نگاہ ڈالی تو وہ پِگھل گیا اور خوفِ خدا سے کانپنے لگا جس سے وہ پانی بن گیا، پھر اللہ تَعَالٰی نے اس پر نگاہِ رحمت ڈالی تو آدھا پانی جم گیا جس سے عرش بنایا گیا، عرش کانپنے لگا تو اس پر لَا اِلٰہ اَلَّا اللہ مُحَمَّدُ رَّسُول اللہ لکھ دیا جس سے وہ ساکن ہوگیا مگر پانی کو اسی طرح چھوڑ دیا گیا جو قیامت تک موجزن رہے گا۔فرمانِ الٰہی ہے:
وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآئِ (1) اللہکا عرش پانی پر تھا۔
تخلیق کائنات:
پھر جب پانی میں تلاطم خیز موجیں پیدا ہوئیں جن سے تہ بہ تہ دھوئیں کے بادل اٹھے اور جھاگ پیدا ہوئی اور اس سے زمین و آسمان بنائے گئے جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے پھر ان دونوں کے درمیان اللہ تَعَالٰی نے ہوا کو پیدا کیا جس کے دباؤ سے زمین و آسمان کے طبق ایک دوسرے سے علیٰحدہ ہوگئے (2)چنانچہ
فرمانِ الٰہی ہے :
ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآ ِٔوَھِیَ دُخَانٌ (3)
اہلِ حکمت کہتے ہیں : اللہ تَعَالٰی نے آسمانوں کو دھوئیں سے اس لئے پیدا فرمایا کہ دُھواں باہم پیوست ہوتا ہے اور بلندیوں پر جاکر ٹھہرتا ہے، بخارات سے اس لئے پیدا نہیں فرمایا کہ وہ واپس لوٹ جاتے ہیں ، یہ اللہ تَعَالٰی کے علم و حکمت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…ترجمۂکنزالایمان:اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ (پ۱۲، ھود :۷)
2…تفسیر روح البیان ، الانبیاء تحت الآیۃ:۳۰ ، ۵/۴۷۱
3…ترجمۂکنزالایمان:پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا۔ (پ۲۴، حٰمٓ السجدۃ :۱۱)