{4}…موت کسی جاہل پر جہالت کے باعث اور کسی عالم پر علم کے سبب رحم نہیں کرتی۔
{5}…موت نے کتنے بولنے والوں کو قبروں میں گونگا بنا دیا وہ جواب ہی نہیں دے سکتے۔
{6}…کل تیرا محل عزت سے معمور تھا اور آج تیری قبر کا نشان بھی مٹ گیا ہے۔
ایک اور قبر پر لکھا تھا: ؎
{1}…جب میرے دوستوں کی قبریں اونٹ کی کوہانوں کی طرح بلند اور برابر ہو گئیں تو مجھے معلوم ہوا۔
{2}…اگرچہ میں رویا اور میرے آنسو بہنے لگے مگر ان کی آنکھیں اسی طرح ٹھہری رہیں (انہوں نے آنسو نہیں بہائے)۔
ایک طبیب کی قبر پر لکھا ہوا تھا: ؎
قد قلت لما قال لی قائل قد صار لقمان الی رمسہ
فاین من یوصف من طبہ وحذقہ فی الماء مع جسہ
ھیہات لاید فع عن غیرہ من کان لاید فع عن نفسہ
{1}… جب کسی نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ لقمان جیسا طبیب و دانشمند بھی اپنی قبر میں جاسویا۔
{2}… کہاں ہے وہ جس کی طب میں شخصیت مسلّم تھی اور اس جیسا کوئی ماہر نہ تھا۔
{3}… جو اپنے آپ سے موت کو نہ ٹال سکا وہ دوسروں سے موت کو کیسے ٹالتا۔
ایک اور قبر پر لکھا ہوا تھا: ؎
یاایھا الناس کان لی امل قصر بی عن بلوغہ الاجل
فلیتق اللہ ربہ رجل امکنہ فی حیاتہ العمل
ما انا وحدی نقلت حیث تری کل الی مثلہ سینتقل
{1}…اے لوگو! میری بہت سی تمنائیں تھیں مگر موت نے انہیں پورا کرنے کی مہلت نہ دی۔
{2}…اللہ سے ڈر اور اپنی زندگی میں نیک عمل کر۔
{3 }…میں اکیلا یہاں نہیں آیا بلکہ ہر کسی کو یہاں آنا ہے۔