Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
189 - 676
{1}…قبروں کے صحنوں (قبرستان) میں کھڑا ہوکر ان سے پوچھ تم میں سے کون تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔
{2}…اور کون اس کی گہرائی میں باعزت طور پر امن و سکون میں ہے۔
{3}…آنکھ والوں کے لئے ایک ہی سکون ہے اور مراتب کا تفاوت دکھائی نہیں دیتا۔
{4}…اگر وہ تجھے جواب دیں تو اپنی زبانِ حال سے حالات کی حقیقت یوں بیان کریں گے۔
{5}…جو مطیع اور فرمانبردار تھا وہ جنت کے باغوں میں جہاں چاہتا ہے سیر کرتا ہے۔
{6}…اور بدبخت مجرم سانپوں کے مسکن والے ایک گڑھے میں تڑپ رہا ہے۔
{7}…اس کی طرف بچھو دوڑ دوڑ کر بڑھ رہے ہیں اور اس کی روح ان کی وجہ سے سخت عذاب میں ہے۔
	حضرتِ مالک بن دینار رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ   فرماتے ہیں کہ میں قبرستان سے یہ شعر پڑھتا ہوا گزرا:    ؎ 
اتیت القبور فنادیتہا		فاین المعظم والمحتقر
واین المدل بسلطانہ		واین المزکی اذا ماافتخر
{1}…میں نے قبرستان میں آکر پکارا کہ عزت دار اور فقیر کہاں ہے؟ 
{2}…اپنی پاکدامنی پر فخر کرنے والا اور بادشاہِ وقت کہاں ہے؟
	حضرتِ مالک بن دینار رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ میرے سوالات کا قبروں سے یہ جواب آیا:   ؎
تفانوا   جمیعا    فما    مخبر			وماتوا جمیعا  ومات  الخبر
تروح   وتغدو   بنات   الثری		فتمحوا محاسن تلک الصور
فیاسائلی  عن   اناس   مضوا		اما  لک  فیما   تری   معتبر
{1}…سب فنا ہوگئے، کوئی خبردینے والا نہیں رہا سب کے سب مَرگئے ان کے نشان بھی مٹ گئے۔
{2}…صبح ہوتی ہے اور شام ہوتی ہے اور ان کی حسین صورتیں مٹی بگاڑتی چلی جاتی ہے۔
{3}…اے گزرے ہوؤں کے متعلق پوچھنے والے! کیا تو نے ان قبروں سے عبرت حاصل کی ہے؟
	ایک اور قبر پر لکھا ہوا تھا:   ؎