وہ بولی: نہیں ! میں نے پوچھا: کیوں ؟ تو اُس نے کہا: میں جس شخص کی نافرمانی کرتی ہوں اس سے ملاقات کی تمنا کبھی نہیں کرتی، موت کے لئے میں نے کوئی کام نہیں کیا لہٰذا اسے کیسے محبوب سمجھوں ۔
حضرت ابو موسیٰ تمیمی کہتے ہیں کہ مشہور شاعر فرزدق کی بیوی کا انتقال ہوگیا تو اس کے جنازہ میں بصرہ کی مقتدر ہستیاں شریک ہوئیں جن میں حضرتِ حسن رَضِیَ اللہ عَنْہ بھی موجود تھے، آپ نے فرمایا: اے ابو فراس! تو نے اس دن کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے کہا: ساٹھ سال سے متواتر اللہ تَعَالٰی کی وحدانیت کا اقرار کر رہا ہوں ، جب اسے دفن کردیا گیا تو فرزدق نے اس کی قبر پر کھڑے ہو کر کہا: ؎
اخاف وراء القبر ان لم تعافنی اسد من القبر التھابا و اضیقا
اذا جاء نی یوم القیامۃ قائد عنیف وسواق یسوق الفرزدقا
لقد خاب من اولاد ادم من مشی الی النار مغلول القلادۃ ارزقا
{1}…اے اللہ! اگر تو مجھے معاف کردے، میں قبر کے فشار اور شعلوں سے خائف ہوں ۔
{2}…جب قیامت کا دن آئے گا تو ایک سنگدل ہیبت ناک فرشتہ فرزدق کو ہنکائے گا۔
{3}…بلا شبہہ نسلِ آدم کا وہی شخص رسوا ہوا جسے طوق پہنا کر جہنم میں بھیجا گیا۔
قبور کے حسرت آگیں کتبات :
اہلِ قبور کے لئے بعض شعراء نے کچھ عبرت آگیں اشعار کہے ہیں :
قف بالقبور وقل علی ساحاتہا من منکم المغمور فی ظلماتہا
ومن المکرم منکم فی قعرھا قد ذاق برد الامن من روعاتہا
اما السکون لذی العیون فواحد لا یستبین الفضل فی درجاتہا
لو جاوبوک لاخبروک بالسن تصف الحقائق بعد من حالاتہا
اما المطیع فنازل فی روضۃ یفضی الی ما شاء من دوحاتہا
والمجرم الطاغی بھا متلقب فی حضرۃ یاوی الی حیاتہا
وعقارب تسعی الیہ فروحہ فی شدۃ التعذیب من لدغاتہا