وہاں جہنم، قیامت اور موت کا ذکر سنتے۔
حضرتِ اُمّ المؤمنین صفیہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا سے اپنی سنگدلی کی شکایت کی تو اُنہوں نے کہا: موت کو یاد کیا کرو، تمہارا دل نرم ہوجائے گا، اس نے ایسا ہی کیا اور اس کا دل نرم ہوگیا، وہ حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کاشکریہ ادا کیا۔
موت کے ذکر پر عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کی حالت:
حضرتِ عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام جب موت کا ذکر سنتے تو ان کے جسم سے خون کے قطرے گرنے لگتے۔ حضرتِ داؤد عَلَیْہِ السَّلَامجب موت اور قیامت کا ذکر کرتے تو ان کی سانس اکھڑ جاتی اور بدن پر لرزہ طاری ہوجاتا، جب رحمت کا ذکر کرتے تو ان کی حالت سنبھل جاتی۔حضرت حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے: میں نے جس عقلمند کو دیکھا اس کو موت سے لرزاں اور غمگین پایا۔
حضرتِ عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے ایک عالم سے کہا: مجھے نصیحت کرو، اُنہوں نے کہا: ’’تم خلیفہ ہونے کے باوجود موت سے نہیں بچ سکتے، تمہارے آباء و اَجداد میں آدم عَلَیْہِ السَّلَامسے لے کر آج تک ہر کسی نے موت کا جام پیا ہے، اب تمہاری باری ہے۔ حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے یہ سنا تو بہت دیر تک روتے رہے۔
حضرتِ ربیع بن خیثم رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے اپنے گھر کے ایک گوشے میں قبر کھود رکھی تھی اور دن میں کئی مرتبہ اس میں جاکر سوتے اور ہمیشہ موت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے: اگر میں ایک لمحہ بھی موت کی یاد سے غافل ہوجاؤں تو سارا کام بگڑ جائے۔
حضرتِ مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے: اس موت نے دنیا داروں سے ان کی دنیا چھین لی ہے پس اللہ تَعَالٰی سے ایسی نعمتوں کا سوال کرو جو دائمی ہیں ۔
حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے عَنْبَسَہسے کہا:’’ موت کو اکثر یاد کیا کرو! اگر تم فراخ دست ہو تو یہ تم کو تنگدست کردیگی اور اگر تم تنگدست ہو تو یہ تم کو ہمیشہ کی فراخ دستی عطا کردے گی۔‘‘
حضرت ابوسلیمان الدارانی رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے: میں نے اُم ّہارون سے پوچھا کہ تجھے موت سے محبت ہے؟