Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
186 - 676
بزرگانِ دین کے ارشادات:
	حضرتِ عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ میں دسواں شخص تھا جو (ایک دن) حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی مجلس میں حاضر تھا، ایک اَنصاری جوان نے پوچھا: یارسول اللہ! سب سے زیادہ باعزت اور ہوشیار کون ہے؟ آپ نے فرمایا: جو موت کو بہت یاد کرتا ہے اور اس کے لئے زبردست تیاری کرتا ہے وہ ہوشیار ہے اور ایسے ہی لوگ دنیا اور آخرت میں باعزت ہوتے ہیں۔ (1)
	حضرت حسن رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے کہ موت نے دنیا کو ذلیل کر دیا ہے اس میں کسی عقلمند کے لئے مسرت ہی نہیں ہے۔حضرت ربیع بن خیثم کا قول ہے کہ مومن کے لئے موت کا انتظار سب انتظاروں سے بہتر ہے۔ مزید فرمایا کہ ایک دانا نے اپنے دوست کو لکھا: ’’اے بھائی! اس جگہ جانے سے پہلے جہاں آرزو کے باوجود بھی موت نہیں آئے گی (اس جگہ) موت سے ڈر اور نیک عمل کر۔‘‘
	امام اِبن سیرین کی محفل میں جب موت کا تذکرہ کیا جاتا تو ان کا ہر عضو سن ہو جاتا تھا۔ حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا دستور تھا ہر رات علماء کو جمع کرتے، موت، قیامت اور آخرت کا ذکر کرتے ہوئے اتنا روتے کہ معلوم ہوتا جیسے جنازہ سامنے رکھا ہے۔
	حضرت ابراہیم التیمیرَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے کہ مجھے موت اور اللہ کے حضور حاضری کی یاد نے دنیا کی لذتوں سے ناآشنا کردیا ہے۔ حضرتِ کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے کہ جس نے موت کو پہچان لیا اس سے تمام دنیا کے دُکھ، درد ختم ہوگئے۔
	حضرت مطرف رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا: کوئی شخص بصرہ کی مسجد کے وسط میں کھڑا کہہ رہا تھا کہ موت کی یاد نے خوفِ خدا رکھنے والوں کے جگر ٹکڑے ٹکڑے کردیئے، رب کی قسم! تم انہیں ہر وقت بے چین پاؤ گے۔
	حضرتِ اَشعث رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے ہم جب بھی حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی خدمت میں حاضر ہوتے ، 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 1…المعجم الاوسط، ۵/۳۱، الحدیث ۶۴۸۸